Close Menu
Meezan News

    With every new follow-up

    Subscribe to our free e-newsletter

    اختيارات المحرر

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, فروری 19, 2026
    رجحان ساز
    • بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
    • امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
    • فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
    • اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
    • تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
    • ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
    • امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
    • لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
    Meezan NewsMeezan News
    For Advertisment
    • ہوم
    • بریکنگ نیوز
    • تازہ ترین
    • پاکستان
    • عالم تمام
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • فن و فرھنگ
    • کالم و بلاگز
    • ہمارے بارے میں
    • رابطہ
    Meezan News
    You are at:Home»تازہ ترین»بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے نریندر مودی نے کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
    تازہ ترین

    بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے نریندر مودی نے کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    انڈیا کے اہم تجارتی شراکتدار کی حیثیت سے بنگلہ دیش میں نئی دہلی کے خلاف جذبات دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل قریب میں تعلقات کیلئے مشکل صورتحال پیدا کرسکتے ہیں
    shoaib87اگست 6, 2024Updated:اگست 6, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کی صورتحال پر غور کرنے کے لئے کل شام قومی سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کے ارکان کی میٹنک کی جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بھی شریک ہونگے اجیت دوول نے اس سے قبل نئی دہلی کے فضائیہ کے اڈے پر بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم سے تفصیلی بات چیت کی تھی، نئی دہلی نے حسینہ واجد کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دے رکھا ہے، جس نے بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات کو بھڑکا دیا ہے، انڈیا کے اہم تجارتی شراکتدار کی حیثیت سے بنگلہ دیش میں نئی دہلی کے خلاف جذبات دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل قریب میں تعلقات کیلئے مشکل صورتحال پیدا کرسکتے ہیں، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کی صبح حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو بریف کیا۔ بعد میں انھوں نے راجیہ سبھا یعنی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ یہاں کچھ وقت کے لئے مقیم ہیں، انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی در خواست کی تھی، ان کے اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا اس صورتحال کیلئے بالکل تیار نہیں تھا، انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جنوری میں ہونے والے انتخابات کے بعد ہی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور طلبہ کی تحریک کے بعد صورتحال اچانک بدل گئی، انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا ڈھاکہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    انڈیا نے بنگلہ دیش میں طلبہ کے احتجاج کے دوران سینکڑوں طلبہ کی ہلاکتوں پر حاموشی سادھ رکھی تھی، ایس جے شنکر نےاپنے مختصر بیان مین یہ بھی کہا کہ مودی حکومت شیح حسینہ کی حکومت کو تحمل سے کام لینے اور بات چیت شروع کرنے کا مشورہ دیتی رہا تھی، شیخ حسینہ مودی حکومت سے بہت قریب تھیں، ان کی اچانک معزولی نے انڈیا میں گہری تشویش پیدا کردی ہے، ڈھاکہ میں انڈیا کے سابق ہائی کمشنر پیناک رنجن چکرورتی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ابھی بنگلہ دیش میں صورتحال مستحکم نہیں ہے ایک بار وہاں امن وامان قائم ہو جائے اور صورتحال نارمل ہونے کی طرف جانے لگے تو دونوں ملکوں کے رابطے دوبارہ بحال ہونے لگیں گے، انھوں  نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا کی بی این پی اور جماعت اسلامی کا دور اقتدار انڈیا کیلئے اچھا نہیں تھا، بقول ان کے نہ صرف ان دونوں جماعتوں نے بنگلہ دیش کے اندر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا اور ہندو اقلیت کو نشانہ بنایا بلکہ انڈیا کے اندر بھی شدت پسندوں کی مدد کی، شیخ حسینہ نے اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا کی اس طرح کی تشویش کو دور کیا تھا، یہاں انڈین میڈیا کی خبروں میں یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے ختم ہونے سے بنگلہ دیش اب مذہبی انتہا پرستوں کی گرفت میں چلا گیا ہے اور احتجاجی طلبہ وہاں پورے ملک میں اقلیتی ہندوؤں کے گھروں اور ان کے مندروں پر حملے کر رہے ہیں۔

    انڈیا بنگلہ دیش
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبنگلہ دیش میں انڈیا کی کٹھ پتلی حکومت ختم، دونوں ملکوں میں تناؤ نئی دہلی میں سیاسی جماعتوں کا اجلاس
    Next Article مارگلہ ہلز پر حساس ادارےکی نظریں، دیہاتوں کے مکین فریاد کناں اجداد کی زمین نہیں چھوڑنا چاہتے
    shoaib87
    • Website

    Related Posts

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026

    اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار

    فروری 10, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

    مقبول مضامين

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026

    اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار

    فروری 10, 2026
    پاکستان
    عالم تمام فروری 18, 2026

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    تحریر: محمد رضا سید بنگلہ دیش ایک بار پھر تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا…

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    ہمیں فالو کریں
    • Facebook
    • YouTube
    • TikTok
    • WhatsApp
    • Twitter
    • Instagram
    Visitor Counter
    1245110
    Most Watched

    امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے

    اکتوبر 9, 202516,425 Views

    پاکستان میں جمہوریت کا زوال 165 ملکوں میں 124ویں نمبر پر آگیا، 10 بدترین ملکوں میں شامل

    فروری 28, 202516,339 Views

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کا منصوبہ پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

    مئی 5, 202516,194 Views
    Editor's Picks

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    © 2026 میزان نیوز
    • Home

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.