Close Menu
Meezan News

    With every new follow-up

    Subscribe to our free e-newsletter

    اختيارات المحرر

    افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا

    فروری 22, 2026

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 18, 2026
    رجحان ساز
    • افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
    • بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
    • امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
    • فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
    • اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
    • تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
    • ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
    • امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
    Meezan NewsMeezan News
    For Advertisment
    • ہوم
    • بریکنگ نیوز
    • تازہ ترین
    • پاکستان
    • عالم تمام
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • فن و فرھنگ
    • کالم و بلاگز
    • ہمارے بارے میں
    • رابطہ
    Meezan News
    You are at:Home»پاکستان»پاڑا چنار میں ادویات کی قلت 128بچوں سمیت 200 افراد جاں بحق لیکن ریاست بےحسی کا شکار
    پاکستان

    پاڑا چنار میں ادویات کی قلت 128بچوں سمیت 200 افراد جاں بحق لیکن ریاست بےحسی کا شکار

    پاکستان کے ریاستی ادارے ہوش کے دامن کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور پاڑا چنار سے پشاور کا راستہ کھولنے کیلئے تمام گروہوں کے درمیان صلح کرائیں
    shoaib87دسمبر 30, 2024Updated:دسمبر 30, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    تحریر: محمد رضا سید

    پاڑا چنار میں شیعہ اکثریتی علاقوں کی ناکہ بندی کو 84 روز مکمل ہوچکے ہیں جبکہ ریاست کی بے حسی برقرار ہے اور اس دوران حملوں اور ادویات کی قلت سے 128بچوں سمیت 200 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، پاڑا چنار کے شہریوں کی ناکہ بندی اور حملوں کے دوران عوام کو پہنچنے والے نقصانات پر پاکستانی فوج سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مکمل بے حسی نے مقامی شیعہ آبادی کو بے یار و مددگار سمجھنے پر مجبور کردیا ہے، پاڑا چنار میں فرقہ واریت کا بیج بونے والے جنرل غٰاء الحق اس دنیا میں موجود نہیں ہیں مگر وہاں بہنے والے خون کی حسابداری بہر حال انہیں بھی دینا ہوگی اور موجودہ مقتدر افراد کو بھی معافی نہیں مل سکے گی، وفاقی حکومت کی طرح خیبرپختنونخواہ کی حکومت بھی بے بس افراد کی مدد نہیں کررہے ہیں، سیاستدانوں کو اپنے ووٹ بینک کی فکر ہے اور ریاستی اداروں کو شیعہ مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون کی پروا نہیں ہے کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ فرقہ واریت چنگاری سلگتی رہے تاکہ مسلمان اُس ظلم پر توجہ مرکوز نہ کرسکیں جو غزہ اور  شام میں کیا جارہا ہے، پاڑا چنار، گلگت بلتستان، کوئٹہ کے ہزارہ علاقے، ہنگو وغیرہ خصوصیت سے فرقہ واریت کی لپیٹ میں رہتے ہیں کیونکہ یہاں شیعہ آبادیوں یکجا ہیں اور ریاستی اداروں کا خیال ہے کہ متذکرہ علاقوں کے شیعہ مسلمان ایک پڑوسی ملک کی آواز پر زیادہ متوجہ ہوتے ہیں، جنرل ضیاء الحق نے ایک خاص منصوبے اور امریکی ایماء پر فرقہ واریت کو ایک ٹول کی طرح استعمال کیا تاکہ قوم مسلکی بنیادوں پر منظم ہو اور اُس کے سیاسی عزائم کو مردہ کردیا جائے۔

    ہم یہاں اِن دونوں باتوں کا تجزیہ موجودہ حالات کی روشنی میں کرتے ہیں، شام سے ایران کی دستبرادری کے بعد مغربی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے حالات میں جوہری تبدیلی آئی ہے، ایران کے رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے واضح اعلان کیا ہے کہ ایران کو خطے میں کسی پراکسی کی ضرورت نہیں ہے جو بھی مظلوم اپنے حق کیلئے قیام کرئے گا ایران اُس کیساتھ کھڑا ہوگا، ایران نے شام کے دلدل سے نکل کر مسلم ممالک کو میدان دیا ہے کہ وہ اسرائیلی جبر کے شکار مسلمانوں کیلئے اپنے مالی اور عسکری طاقت کو استعمال کرکے ثابت کریں کہ وہ ایران سے زیادہ بہتر مظلوم مسلمانوں کی مدد کرسکتے ہیں، ترکیہ معاشی اور عسکری حوالوں سے طاقتور ملک ہے، ترکیہ شام میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرچکا ہے ترک قیادت اب بھی عثمانی خلافت پر فخر کرتی ہے، ترکیہ بجائے مسلمانوں پر جدید ترین اسلحہ استعمال کرئے، اسرائیل کے خلاف جہاد کی قیادت کرئے لہذا جب ایران آواز ہی نہیں دے رہا تو پاڑا چنار سے لیکر کراچی تک کے شیعہ کیوں پڑوسی ملک کی طرف متوجہ ہونگے، اب آئیں اس بات پر کہ فرقہ واریت کے ذریعے قوم کی سیاسی بیداری کو ختم کرنے کیلئے ایسے حالات پیدا کردیئے جائیں کہ پوری قوم مسلکی بنیادوں پر تقسیم کا شکار ہوکر مقتدر قوتوں سے اپنا حق نہیں مانگے، یہ جواز حقیقت کے قریب دکھائی دیتا ہے، ایسے حالات میں جب 26 اکتوبر کے عظیم سانحے سے دوچار ہوکر عوام نامعلوم افراد کی آستینوں پر اپنا لہو تلاش کررہی تھی عین اُس وقت پاڑا چنار کے لوگوں کا دہشت گردوں کے ہاتھوں بیدردی کیساتھ قتل کرایا جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک فرقہ واریت کی لپیٹ میں چلا جاتا ہے۔

    افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے ہماری مقتدرہ نے کھبی درست فیصلہ نہیں کیا سانحہ مشرقی پاکستان پر غور کریں، بھٹو کے عدالتی قتل کے پیچھے محرکات کا جائزہ لیں، ایم کیوایم کے خلاف آپریشنز کا جائزہ لیں، 9 مئی کو دیکھیں، 8 فروری کے سانحے کی پڑتال کریں یا 26 اکتوبر کے قتل عام کو روئیں، اِن سب کے پیچھے طاقتور کی شخصی آمریت نظر آئے گی، پاکستان کے ریاستی ادارے ہوش کے دامن کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور پاڑا چنار سے پشاور کا راستہ کھولنے کیلئے تمام گروہوں کے درمیان صلح کرائیں، اسلحہ واپس لینے کو راستے کھولنے سے مشروط کرنا عام لوگوں کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہوگا، پاڑا چنار سے پشاور تک کا راستہ محفوظ بنانا ریاست کا کام ہے اگر یہ کام بھی فوج نہیں کرسکتی تو پھر قوم پر اتنا بڑا بوجھ کیوں ڈال رکھا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان کو ترقی کی منفی سمت پر گامزن کرنےوالوں نے انٹرنیٹ بندش میں دوسرا نمبر حاصل کرلیا
    Next Article سندھ حکومت کی بلاول بھٹو سے مشاورت بعد کراچی میں دھرنے ختم کرانے کیلئے طاقت کا استعمال
    shoaib87
    • Website

    Related Posts

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

    مقبول مضامين

    افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا

    فروری 22, 2026

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026

    فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے

    فروری 10, 2026
    پاکستان
    عالم تمام فروری 22, 2026

    افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے خفیہ اطلاعات…

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026
    ہمیں فالو کریں
    • Facebook
    • YouTube
    • TikTok
    • WhatsApp
    • Twitter
    • Instagram
    Visitor Counter
    1261688
    Most Watched

    امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے

    اکتوبر 9, 202516,426 Views

    پاکستان میں جمہوریت کا زوال 165 ملکوں میں 124ویں نمبر پر آگیا، 10 بدترین ملکوں میں شامل

    فروری 28, 202516,339 Views

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کا منصوبہ پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

    مئی 5, 202516,194 Views
    Editor's Picks

    افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا

    فروری 22, 2026

    بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے

    فروری 18, 2026

    امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!

    فروری 17, 2026
    © 2026 میزان نیوز
    • Home

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.