رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات ابتدائی مراحل میں مناسب طریقے سے طے پا گئے ہیں لیکن ایران کو فریق مخالف پر شدید شکوک و شبہات بھی ہیں، رہبر انقلاب نے منگل کے روز ملک کی انتظامی، عدالتی اور مقننہ شاخوں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہ تو ان مذاکرات کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پرامید ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر مایوس البتہ امریکہ کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے ہمیں ان پر قطعی اعتماد نہیں، رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکہ کیساتھ بلواسطہ مذاکرات شروع کرنا ایک فیصلہ کن اقدام تھا جس پر عمل درآمد کیا گیا ہے، آیت اللہ خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی اور دیگر اہم معاملات کو کسی بھی صورت میں مذاکرات کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے، انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو اپنے تمام معاملات خودمختاری اور اپنے وسائل کی بنیاد پر ہی آگے بڑھانا ہوں گے، رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ حکام ملک کے اہم مسائل کو مذاکرات کے ساتھ نتھی نہ کریں انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ سے ہونے والی بات چیت پر بہت سے شکوک و شبہات ہیں لیکن ہمیں اپنی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے، یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتہ ایران اور امریکہ کے درمیان عمانی وزیر خارجہ کی ثالثی میں مسقط میں مذاکرات ہوئے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ یہ مذاکرات صرف اور صرف امریکہ کے غیرقانونی یکطرفہ پابندیوں اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مسائل تک محدود ہیں دیگر کسی بھی معاملے کو مذاکراتی عمل میں شامل نہیں کیا جائیگا۔
امریکہ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کے تحت جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کے تحت پابندیاں اٹھا لی تھیں تاہم ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد واشنگٹن نے معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کردیا اور یہاں تک کہ اسلامی جمہوریہ پر مزید پابندیاں عائد کردیں، امریکہ نے مخالفانہ نقطہ نظر کو زیادہ سے زیادہ دباؤ قرار دیا ہے، اس دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک واشنگٹن اپنی دھمکیوں سے باز نہیں آتا اُس وقت تک امریکہ کے ساتھ کوئی بھی براہ راست مذاکرات نہیں ہوسکتے، دوسری طرف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بلواسطہ مذاکرات میں ملک کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہورہی ہے، خیال رہے ایران اور امریکہ نے ہفتے کو عمان میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز کیا، جس کا مقصد تہران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

