تحریر: محمد رضا سید
بنگلہ دیش ایک بار پھر تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے، حالیہ انتخابات اور آئینی ریفرنڈم نے نہ نئی سیاسی قیادت کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد کی ہیں ، بنگلہ دیش کے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 60 فیصد رہی جو اس ملک کیلئے غیرمعمولی سیاسی پیشرفت ہے، بنگلہ دیش میں وزیراعظم طارق رحمان نے اپنے منصب کا حلف اُٹھالیا ہے اور کابینہ بھی تشکیل دیدی ہےیوں جمہوریت کی بحالی کا عمل ایک لحاظ سے مکمل تو ہوگیا ہےلیکن یہ سیاستدانوں کے رویوں پر انحصار ہوگا کہ وہ اس ملک میں جمہوریت کے فیضان کو عوام تک کیسے پہنچاتے ہیں، حسینہ واجد نے اقتدار میں آنے کے بعد جس طرح جمہوریت کا استحصال کیا اُسے بنگلہ عوام نہیں بھولی ہے، بی این پی کوپارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت حاصل ہے مگر وزیراعظم طارق رحمان کیلئےملک کےترقی پسند چہرے کو نمایاں رکھنا بڑا امتحان ہوگا کیونکہ حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی قیادت میں جھوٹی جماعتوں کا اتحاد اسمبلی میں 60 نشستیں حاصل کرچکا ہے۔
طلبہ تحریک کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا آمرانہ اقتدار ختم ہوا اور وہ ہندوستان فرار ہوئیں جس کے بعد بنگلہ دیشی سیاست میں طویل عرصے سے دبے ہوئے تضادات نمایاں ہوئے حسینہ نے جمہوریت اور انسداد کرپشن کے نام پر سیاستدانوں کے خلاف وہی رویہ اختیار کیاجوآمریت کی پہنچان ہوتی ہے، اِس انداز حکومت کی آجکل ایک مثال جنوبی ایشیاء کے ملک پاکستان میں ملتی ہے، جہاں انتخابی نتائج بندوق کی نوک پر لوٹے گئے اور بدعنوان گروہ کو جیل جانے سے بچاکر اقتدار سپرد کردیا گیا، حسینہ واجد کے دور حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے سیاسی جبر، متنازع انتخابات اور ادارہ جاتی کمزوری کے الزامات لگتے رہے تھے، ایسے میں عبوری حکومت کا قیام ایک ناگزیر سیاسی وقفہ ثابت ہوا، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے کی لیکن اُنھوں نے منصفانہ انتخابات کرانے میں 18 ماہ لگا دیئے جو اُن کا غلط فیصلہ تھا اور اسی غلطی نے جماعت اسلامی کے اتحاد کو طاقت فراہم کی۔
یہ عبوری دور محض انتظامی نہیں بلکہ ساختی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا، انتخابات کے ساتھ ہونے والا آئینی ریفرنڈم اسی وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے، دو ایوانی پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی مدت کی حد، نگراں حکومت کا نظام اور عدلیہ کی خودمختاری جیسے نکات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ بنگلہ دیش اپنی سیاسی اور آئینی ضرورتوں کی انجینئرنگ ازسرنو کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آئینی تبدیلیاں سیاسی ثقافت کو بھی بدل سکیں گی؟
انتخابی نتائج نے ایک اور بڑی حقیقت واضح کر دی ہے یعنی بنگلہ سیاست میں ضیاء خاندان کی واپسی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی کامیابی اور طارق رحمان کی سیاسی مقبولیت دراصل ایک تاریخی تسلسل ہے، جس کی جڑیں ان کے والد ضیاء الرحمن کے دور تک جاتی ہیں، ضیاء الرحمن نے بنگلہ دیشی قوم پرستی کا وہ بیانیہ تشکیل دیا تھا جس نے ریاست کو محض لسانی شناخت سے نکال کر ایک وسیع تر نظریاتی سمت دی ان کے بعد خالدہ ضیاء نے اسی سیاسی وراثت کو جمہوری قالب میں ڈھالا، اگرچہ ان کا دور شدید سیاسی تقسیم اور بدعنوانی کے الزامات سے بھی عبارت رہا۔
یوں بنگلہ دیش کی سیاست ایک بار پھر اپنی پرانی لکیر پر آ کھڑی ہوئی ہے ، مجیب خاندان بمقابلہ ضیاء خاندان یہ خاندانی سیاست صرف شخصیات کا تصادم نہیں بلکہ دو مختلف سیاسی بیانیوں کی جنگ ہے ایک طرف سیکولر قوم پرستی اور بھارت سے قربت کا تصور جبکہ دوسری طرف قوم پرستانہ خودمختاری اور متوازن خارجہ پالیسی کی خواہش، تاہم اس بار سیاسی منظرنامہ ماضی سے مختلف ہے، نوجوان نسل، ڈیجیٹل آزادی، اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے عناصر ایک نئی سیاسی حقیقت تشکیل دے رہے ہیں، آئینی ریفرنڈم میں ڈیٹا پرائیویسی اور عدالتی خودمختاری جیسے نکات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی نئی سیاست محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کی تشکیل نو کی کوشش ہے، اس تبدیلی کے علاقائی اثرات بھی کم اہم نہیں بالخصوص ہندوستان کے ساتھ تعلقات ایک نئے امتحان میں داخل ہو سکتے ہیں ماضی میں ڈھاکا اور نئی دہلی کے تعلقات بڑی حد تک شخصیات کے گرد گھومتے رہے لیکن نئی قیادت اگر خارجہ پالیسی کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کرتی ہے تو خطے کی سفارتی حرکیات بدل سکتی ہیں۔
اصل سوال مگر وہی ہے جو ہر سیاسی تبدیلی کے بعد ابھرتا ہے کیا نظام بدلے گا یا صرف حکمران؟ بنگلہ دیش کی تاریخ گواہ ہے کہ آئینی ڈھانچے سے زیادہ سیاسی رویے ریاست کی سمت متعین کرتے ہیں، اگر نئی قیادت اداروں کو مضبوط کرنے، سیاسی انتقام سے گریز اور معاشی اصلاحات پر توجہ دیتی ہے تو یہ تبدیلی دیرپا ہو سکتی ہے، بنگلہ دیش آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں سے دو راستے نکلتے ہیں ایک راستہ ادارہ جاتی جمہوریت کی طرف جاتا ہے، دوسرا شخصی سیاست کے پرانے دائرے میں واپس لے جاتا ہے،آنے والے چند سال طے کریں گے کہ یہ ملک تاریخ کے کس رخ پر اپنا نام لکھواتا ہے۔
بدھ, فروری 18, 2026
رجحان ساز
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا

