ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے پیر کے روز کہا کہ اگر تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں تو ایران اپنے انتہائی زیادہ افزودہ یورینیم کو کم افزودگی پر لانے پر معاہدہ ہوسکتا ہے، یہ واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کے مؤقف کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے، گزشتہ ہفتے مسقط میں امریکی اور ایرانی وفود نے عمان میں بلواسطہ بات چیت کی، جس کا مقصد سفارتکاری کے ذریعے ایران کی جانب سے یورینیم افزدوگی پر اختلافات ختم کرنا ہے، یہ پیشرفت مذاکرات کے دوران سامنے آئی جبکہ ایران نے 3 سالوں کیلئے یورینیم افزودگی صفر کرنے کے امریکی مطالبے کو یکسر مسترد کردیا ہے، یہ مذاکرات ایران میں امریکہ سمیت جرمنی، اسرائیل اور برطانیہ کی مشترکہ کوششوں کے باوجود نظام کی تبدیلی اور ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف گھناؤنی سازش کی ناکامی کے بعد اومان کے دارالحکومت مسقط میں ہورہے ہیں، ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے پیر کے روز کہا کہ افزودہ یورینیم کی سطح 60 فیصد سے کم سطح پر لایا جاسکتا ہے۔
محمد اسلامی نے بتایا کہ امریکہ کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کاروں نے تجویز پیش کی کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو کسی دوسرے ملک میں بھیج دے جو یورینیم کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کا حامل ہو، اُن کے مطابق ایران نے اس امریکی تجویز کو یکسر مسترد کردیا ہے، اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی نے گزشتہ سال ایران میں موجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی مقدار 440 کلوگرام سے زائد لگایا تھا، جو ہتھیاروں کے معیار کی 90 فیصد افزودگی کی سطح سے خاصہ کم ہے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ مذاکرات کا نیا دور اس معاملے کے منصفانہ اور متوازن حل کا ایک مناسب موقع ہوگا اور مطلوبہ نتیجہ اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے اگر امریکہ سخت گیر مؤقف سے گریز کرے اور اپنے وعدوں کا احترام کرے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پابندیاں اٹھانے کے مطالبے پر قائم رہے گا اور افزودگی سمیت اپنے جوہری حقوق پر اصرار کرے گا، ایران اور امریکہ نے گزشتہ سال تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لئے پانچ دور کی بات چیت مکمل کرلی تھی اور اِن مذاکرات کو حوصلہ افزاء قرار دیا جارہا تھا مگر واشنگٹن کے مکار پالیسی ساز افراد نے اسرائیل کو ایران پر حملے کی اجازت دیدی جس کے بعد ایران نے مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا، 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ نے بھی حصّہ لیتے ہوئے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا اور اعلان کیا کہ اس حملے کے نتیجے میں ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو جاری نہیں رکھ سکے گا تاہم ایران نے امریکہ سمیت دنیا کو اُس وقت ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب صرف چھ ماہ میں ایران نے دوبارہ ایٹمی پروگرام کو کھڑا کردیا
ٹرمپ کے ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران نے کہا ہے کہ اُس کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں کچھ عرصے کیلئے معطل ہوئیں تھیں، ایران ہمیشہ کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لئے ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے مگر تہران نے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے، صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بیرونی قوتوں کی جانب سے کرائے گئے فسادات کے دوران فوجی مداخلت کی دھمکی بھی دی تھی مگر ایرانی عوام کی بڑی تعداد نے فسادیوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے جس کے بعد امریکی صدر ایران پر فوجی حملے سے باز رہے۔
منگل, فروری 10, 2026
رجحان ساز
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
- جیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

