اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کے پُرامن جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں حصّہ لینے کی تیاری کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی دھمکیاں موجودہ صورتحال کو پیچیدہ بنارہی ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران ماضی کی طرح برابری کی پوزیشن سے اور بالواسطہ طور پر حقیقی مذاکرات کیلئے تیار ہے، عباس عراقچی نے بدھ کے روز اپنے ڈچ ہم منصب کیسپر ویلڈکیمپ کے ساتھ فون کال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوہری موضوع پر مذاکرات کیلئے تعمیری ماحول کی ضرورت ہے دھمکیاں اور بلیک میلنگ پر مبنی نقطہ نظر سے کسی بھی مثبت فیصلے سے دور کردے گی، ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی حکام کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور یہ صورتحال کو مسلسل پیچیدہ بنارہی ہے، عراقچی نے خبردار کیا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی بھی جارحیت کا تیزی سے اور فیصلہ کن جواب دے گا، ایران کے اعلیٰ سفارت کار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھیں، انھوں نے امریکی حکام کی اشتعال انگیز بیان بازی کے خلاف مؤقف اپنانے میں ناکامی پر یورپی یونین پر تنقید کی، جو ان کے بقول بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے خطرہ ہے، اپنی طرف سے ویلڈکیمپ نے تنازعات کو حل کرنے کیلئے سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر نیا معاہدہ کرنے کیلئے مذاکرات میں داخل ہونے سے انکار کیا تو وہ ایران کے خلاف فوجی حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
اپنی پہلی میعاد کے دوران ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق 2015ء کے متفقہ معاہدے سے الگ کر دیا اور تہران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کی، ٹرمپ نے جنوری میں دوسری مدت کیلئے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد اس پالیسی کو بحال کیا لیکن اس کے بعد انہوں نے 2015 کے معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ کرنے پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے، 12 مارچ کو ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو ایک خط بھیجا جس میں ایک نئی ڈیل تک پہنچنے کے لئے بات چیت کے لئے کہا گیا اور تہران کے انکار کرنے پر فوجی کارروائی کی دھمکی دی، ایران نے دباؤ اور دھمکیوں کے تحت امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ بالواسطہ بات چیت ایک آپشن ہے۔
جمعہ, اپریل 4, 2025
رجحان ساز
- ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی رہائی کیلئے دھرنا عید کے تیسرے روز بھی جاری رہا انٹرنیٹ بند
- ہنگری نے اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عملدآمد سے انکار کردیا
- جوہری معاہدہ کیلئے تیار ہیں دھمکیاں نہیں چلیں گی امریکہ سے بلواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،عراقچی
- ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر اقوام متحدہ امریکی صدر کے بیانات کی مذمت کرئے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی عالمی تجارت اور جنوبی ایشیائی ملکوں کی ٹیکسٹائل صنعت کیلئے خطرہ
- بلوچستان میں بدامنی، صوبے کے چار اضلاع کی حدود میں قومی شاہراہوں پر سفر پر جزوی پابندی عائد
- زیلنسکی مستعفی ہوجائیں تاکہ یوکرین میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جاسکے، روسی مطالبہ
- گیس فیلڈ حملہ، یوکرین کی فنی مدد کرکے برطانیہ اور فرانس کی جنگی شعلوں کا رُخ موڑنے کی کوشش