تحریر: محمد رضا سید
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں تاکہ جنگ بندی کیلئے جاری مذاکراتی عمل کو تیز کیا جاسکے، دراصل زیلنسکی ہاتھیوں کی لڑائی کے درمیان میں موجود ہیں جنگ کے آغاز پر جب امریکہ اور یورپ ایک پیج پر تھے تو یوکرینی صدر اپنے آپ کو بھی ہاتھی ہی سمجھ بیٹھے تھے مگر امریکہ کی سیاسی تبدیلی نے سب کشھ بدل دیا اور وائٹ ہاؤس کے نئے مکین ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں باور کرادیا کہ وہ بندر ہیں اور ہاتھیوں کی لڑائی میں اُن کا ہی نقصان مسلمہ حقیقت ہے، امریکہ اور یورپ کی دو ایٹمی طاقتوں برطانیہ اور فرانس کے درمیان فٹبال کی گیند کی طرح گھن چکر بننے ہوئے ہیں، صدر زیلنسکی کیلئے پوتن کا مشورہ مان لینا ہی یوکرین کے عوام کی بھلائی میں ہے، یہاں یہ جانا ضروری ہوگا کہ یوکرین کی معیشت کووڈ 19 کے بعد بحالی کی طرف گامزن تھی اور 3.4 فیصد کی شرح سے ملک ترقی کررہا تھا، مضبوط زرعت اور آئی ٹی سیکٹر کے ساتھ 2021 میں جی ڈی پی تقریباً دو سو بلین ڈالر تھی، یوکرین گندم، مکئی اور سورج مکھی کا تیلبرآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا، آئی ٹیک سیکٹر تیزی سے پھیل رہا تھا جسکی برآمدات یوکرین کی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کررہی تھی، 2014ء میں روس پر انحصار ختم کرنے کے بعد یوکرین کے یورپی یونین اور چین کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات تھے جبکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ رہی تھی مگر مغربی یورپ اور امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روس جیسے طاقت ور ملک سے جنگ چھیڑ دی، جس کے بعد 2022 میں یوکرین کی معیشت کی بحالی کو شدید دھچکا پہنچایا، جنگ نے یوکرین کی معیشت کو تباہ کردیا جس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے، صنعتی پیداوار اور ہجرت اور زرعی زمینوں روسی بمباری نے انسانی سرمائے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، یوکرین کی جی ڈی پی 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد تقریباً 30 سے 35 فیصد سکڑ گئی جوکہ جدید یورپ کی تاریخ کی بدترین کمی ہے، جنگ نے سڑکوں، پلوں، کارخانوں اور مکانات کو بڑے پیمانے پر تباہ کردیا، جس سے اس ملک کو 500 بلین ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچا ہے جبکہ تعمیر نو کیلئے مغربی یورپ اور امریکہ و کینیڈا نے مطلوبہ مالی امداد فراہم نہیں کی تو یوکرین کو اپنی معیشت بحال کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں، پاور پلانٹس پر روسی حملوں سے توانائی کے شعبے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا جو زراعت اور صنعتی پیداوار کو متاثر کررہا ہے بحیرہ اسود میں روسی اجارہ داری کی وجہ سے یوکرین کی گندم کی برآمدات میں بہت زیادہ کمی آئی ہے، جس کے بعد یوکرین نے گندم اور ڈالوں کی برآمدات کیلئے متبادل راستے تلاش اختیار کئے مگر وہ مہنگے ہونے کی وجہ سے قیمتوں کی بنیاد پر عالمی سطح پر مقابلے سے باہر ہیں جسکی وجہ سے یوکرین قیمتوں کو کم کرکے آناج کی فروخت کررہا ہے۔
یوکرین کی معیشت اب زیادہ تر بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے مغربی مالی امداد پر انحصار کرئے گی کیونکہ دفاعی اخراجات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر افرادی قوت جنگی عمل میں متحرک ہے، یوکرین کی معیشت کو بے پناہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس نے جنگ کے وقت کے حالات کے مطابق لچک کا مظاہرہ کیا ہے بعد از جنگ تعمیر نو سے ہی یوکرین کی معیشت سنبھل سکتی ہے لیکن طویل مدتی معاشی استحکام جنگ کے خاتمے اور تعمیر نو سے مشروط ہے، صدر زیلنسکی اپنی مدت صدارت پورا کرچکے ہیں روس نے تجویز پیش کی ہے کہ یوکرین میں عبوری نظام حکومت قائم کی جائے جس طرح شام میں اپوزیشن پر مشتمل عبوری حکومت قائم کی گئی ہے، 72 سالہ صدر پوتن نے جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز کو لانچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کے پاس جنگ کی اگلی صفوں میں لڑنے کیلئے اسٹریٹجک اقدام منصوبہ ہے، پوتن نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیف میں قابل قیادت کو برسراقتدار لائے جو امن معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے تیار ہو کیونکہ صدر زیلنسکی کے پاس کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑا ہے یوکرائنی صدر زیلنسکی اپنی مدت صدارت کے بعد بھی براجماں ہیں، دوسری طرف صدر زیلینکی کے چیف آف اسٹاف اینڈری یرماک نے صدر زیلنسکی کو معزول کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور یہ ایسی صورتحال ہے جس میں امن کی اُمید لگانا خیالی پلاؤ پکانے کے مترادف ہے تاہم روس کے رویوں سے تو یہی معلوم ہورہا ہے کہ یوکرین میں امن کیلئے صدر زیلنسکی کی قربانی ناگزیز ہے۔
جمعرات, اپریل 3, 2025
رجحان ساز
- ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی رہائی کیلئے دھرنا عید کے تیسرے روز بھی جاری رہا انٹرنیٹ بند
- ہنگری نے اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عملدآمد سے انکار کردیا
- جوہری معاہدہ کیلئے تیار ہیں دھمکیاں نہیں چلیں گی امریکہ سے بلواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،عراقچی
- ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر اقوام متحدہ امریکی صدر کے بیانات کی مذمت کرئے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی عالمی تجارت اور جنوبی ایشیائی ملکوں کی ٹیکسٹائل صنعت کیلئے خطرہ
- بلوچستان میں بدامنی، صوبے کے چار اضلاع کی حدود میں قومی شاہراہوں پر سفر پر جزوی پابندی عائد
- زیلنسکی مستعفی ہوجائیں تاکہ یوکرین میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جاسکے، روسی مطالبہ
- گیس فیلڈ حملہ، یوکرین کی فنی مدد کرکے برطانیہ اور فرانس کی جنگی شعلوں کا رُخ موڑنے کی کوشش