سائفر کیس کا کارتوس ٹھس اعلی عدلیہ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں، خیال رہے امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر کے درمیان گفتگو پر مشتمل پاکستانی سفیر کے سائفر کی بنیاد پر نچلی عدلیہ کی جانب سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دی گئی دس دس سال کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نےسابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرلیں، جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں سزا کی خلاف اپیلوں پر مختصر فیصلہ سنایا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان، شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرلیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں حاضر ہوئے، بعد ازاں عمران خان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاپرواہی کا الزام جو بانی چیئرمین پر لگا ہے یہ الزام ان پر لگتا ہی نہیں، 4 گواہان کے مطابق سائفر کی حفاظت اعظم خان کی ذمہ داری تھی، دو سال تحقیقات ہوئیں اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی ، باقی 8 کاپیاں بھی ایف آئی کی کارروائی کے بعد وآپس ہوئیں، جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ جب ثبوت کو ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو 201 لگتی ہے لیکن سائفر تو ان کے پاس موجود ہے۔
واضح رہے واشنگٹن میں تعینات سابق پاکستانی نے اپنے سائفر میں مبینہ طور پر بتایا تھا کہ وائٹ ہاوس وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے ناراض ہے، ڈونلڈ لو نے بتایا کہ امریکی حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ عمران خان کے خلاف پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی اور اگر اس تحریک کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم کردی گئی تو امریکی انتظامیہ پاکستان سے ایک بار پھر تعلقات معمول پر لے آئے گی، جس کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی اور تحریک انصاف کے کچھ اراکین کو انحراف کرنے پر آمادہ کرکے سپریم کورٹ کی ھدایت کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک منظور کرلی گئی تھی۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق


واضح رہے واشنگٹن میں تعینات سابق پاکستانی نے اپنے سائفر میں مبینہ طور پر بتایا تھا کہ وائٹ ہاوس وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے ناراض ہے، ڈونلڈ لو نے بتایا کہ امریکی حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ عمران خان کے خلاف پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی اور اگر اس تحریک کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم کردی گئی تو امریکی انتظامیہ پاکستان سے ایک بار پھر تعلقات معمول پر لے آئے گی، جس کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی اور تحریک انصاف کے کچھ اراکین کو انحراف کرنے پر آمادہ کرکے سپریم کورٹ کی ھدایت کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک منظور کرلی گئی تھی۔