Close Menu
Meezan News

    With every new follow-up

    Subscribe to our free e-newsletter

    اختيارات المحرر

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    دسمبر 29, 2025

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جنوری 20, 2026
    رجحان ساز
    • ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
    • یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
    • غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
    • پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
    • پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
    • ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
    • امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
    • حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!
    Meezan NewsMeezan News
    For Advertisment
    • ہوم
    • بریکنگ نیوز
    • تازہ ترین
    • پاکستان
    • عالم تمام
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • فن و فرھنگ
    • کالم و بلاگز
    • ہمارے بارے میں
    • رابطہ
    Meezan News
    You are at:Home»کالم و بلاگز»ہندوستانی سندور پر بنیان مرصوص بالا رہی نئی دہلی کا امریکی ثالثی قبول کرنا، پاکستان کی سفارتی فتح ہے
    کالم و بلاگز

    ہندوستانی سندور پر بنیان مرصوص بالا رہی نئی دہلی کا امریکی ثالثی قبول کرنا، پاکستان کی سفارتی فتح ہے

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اور مستقل مقصد مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی تنازع کی حیثیت میں زندہ رکھنا ہے صدر ٹرمپ کی دلچسپی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے
    shoaib87مئی 12, 2025Updated:مئی 12, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    تحریر: محمد رضا سید
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرائیں گے اور ہندوستان نے بظاہر ثالثی کو قبول کرتے ہوئے پاکستان پر اپنی فوجی جارحیت بند کردی ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہندوستان اپنے اُس روایتی مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی پر مبنی مسائل کو صرف دو طرفہ مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان فوجی حملوں کا ایک سلسلہ، جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کو ایک وسیع جنگ کے قریب لے آیا تھا۔ جوہری تصادم کا خطرہ حقیقت بنتا دکھائی دے رہا تھا کیونکہ پاکستان نے 10 مئی 2025 کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس طلب کرلیا تھا، جنگ اس وقت رکی جب عالمی طاقتوں نے مداخلت کی اور پاکستان نے یہ اجلاس منعقد نہیں کیا، واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور اسٹریٹجک اثاثوں کی نگرانی کرنے والا اعلیٰ ترین سول و عسکری ادارہ ہے۔ اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا جب پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت ہندوستان کے خلاف جوابی کارروائی شروع کردی تھی اور اُس کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔ اس سے قبل ہندوستان نے آپریشن سندور کے تحت پاکستانی علاقوں پر حملے کیے تھے، جنھیں ہندوستان نے دہشت گردی کے مراکز قرار دیا تھا تاہم ان حملوں میں ہندوستان کو مطلوب کوئی ایک بھی ملزم ہلاک نہیں ہو بلکہ بے گناہ افراد، جن میں بچے اور خواتین شامل تھیں مارے گئے۔
    پاکستان کی جوابی کارروائیوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا، اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے تنازع پر ثالثی کی پیشکش کی، جسے دونوں ملکوں نے قبول کرتے ہوئے سیزفائر پر رضامندی ظاہر کی، بظاہر دونوں ممالک کی قیادت نے باہمی تنازعات کو امریکی ثالثی یا سہولت کاری کے تحت حل کرنے پر اتفاق کیا ہے، البتہ، ہندوستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے صدر ٹرمپ کی ثالثی کو سرکاری طور پر رد کردیا ہے، دراصل ہندوستان مسئلہ کشمیر کے تناظر میں لفظ ثالثی کی گہرائی سے خوفزدہ رہتاہے تاہم دنیا میں یک قطبی نظام قائم ہونےکے بعد ہندوستان تاریخی طور پر واشنگٹن کے احکامات کو غیر معمولی اہمیت دیتا رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کہ ہندوستان نے واشنگٹن سے رجوع کیا اور فائربندی کو تسلیم کیا، یہ دونوں ممالک کیلئے ایک خوش آئند عمل تھا، جس سے عوام کو سکون ملا، پاکستان نے جنگ بندی میں سہولت کاری پر امریکا اور صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا تاہم، ہندوستانی فوج نے کہا ہے کہ اگر اسے خطرہ محسوس ہوا تو وہ دوبارہ پاکستان پر حملہ کرسکتی ہےجبکہ پاکستانی فوج نے بھی ملک کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف سخت ردعمل دینے کے عزم کا اظہار کیا ہےلیکن فی الحال کسی بڑی جنگ کا اندیشہ ختم ہوچکا ہے۔
    مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے ایک علاقائی جوہری فلیش پوائنٹ کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہےاور عالمی طاقتیں اس بابت شدید تحفظات رکھتی ہیں، پاکستان اور ہندوستان مسئلہ کشمیر پر دو باقاعدہ جنگیں لڑ چکے ہیں لیکن اب دونوں ممالک ایٹمی طاقت رکھتے ہیں، صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز یہ خبر بریک کی کہ دونوں ممالک امریکی سفارتی ثالثی کے بعد لڑائی روکنے پر متفق ہو گئے ہیں، اتوار کے روز انہوں نے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کام کریں گے۔ ان کے اس بیان نے ہندوستان میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بننے کا موقع فراہم کیا۔ ہندوستانی قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی حکومت اس صورتِ حال سے کس طرح نمٹتی ہے۔
    پاکستان کا موقف ہے کہ منقسم کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، صدر ٹرمپ کی پیشکش کو پاکستان کی ایک سفارتی فتح قرار دیا گیاکیونکہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ سمجھتا ہےلیکن اس کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کرتا یاد رہے کہ پاکستان نے دو طرفہ سطح پر مسئلہ کشمیر کے متعدد حل تجویز کیے ہیں، جن پر ہندوستان نے مذاکرات بھی کیے لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا لہٰذا اس صورتحال میں مؤثر ثالثی کی ضرورت بدستور موجود ہے۔
    ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ غیر رسمی جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر عوامی سطح پر ہونے والی گفتگو ایک قابلِ تشویش امر ہے، عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس فلیش پوائنٹ مسئلے کا پُرامن حل نکالیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اور مستقل مقصد مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی تنازع کی حیثیت میں زندہ رکھنا ہے، صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ کے طور پر سنجیدہ لینا، اس کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے کشمیر کا تنازع محض پاکستان اور ہندوستان کا نہیں، نہ صرف جغرافیائی سیاست یا سفارت کاری کا معاملہ ہے، بلکہ یہ کشمیری عوام کی بقا اور امن سے براہِ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

    front بنیان المرصوص
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہندوستان کی جانب سے پاکستانی حدود میں داخل ہونیوالا کوئی ڈرون واپس نہیں جاسکتا، جنرل شریف
    Next Article امریکی ثالثی پر سیز فائر ہندوستانی قیادت داخلی دباؤ کا شکار، نرنیدر مودی کے دعوے مبالغہ آرائی ہیں
    shoaib87
    • Website

    Related Posts

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    دسمبر 29, 2025

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

    مقبول مضامين

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    دسمبر 29, 2025

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025

    پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !

    دسمبر 9, 2025
    پاکستان
    تازہ ترین دسمبر 29, 2025

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    تحریر: محمد رضا سید ایران کے معاشی ماہرین چند سال پہلے تک یہ سوچ بھی…

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025
    ہمیں فالو کریں
    • Facebook
    • YouTube
    • TikTok
    • WhatsApp
    • Twitter
    • Instagram
    Visitor Counter
    1221299
    Most Watched

    امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے

    اکتوبر 9, 202516,423 Views

    پاکستان میں جمہوریت کا زوال 165 ملکوں میں 124ویں نمبر پر آگیا، 10 بدترین ملکوں میں شامل

    فروری 28, 202516,338 Views

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کا منصوبہ پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

    مئی 5, 202516,194 Views
    Editor's Picks

    ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

    دسمبر 29, 2025

    یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

    دسمبر 28, 2025

    غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

    دسمبر 24, 2025
    © 2026 میزان نیوز
    • Home

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.