امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی میزبانی کرتے ہوئے غزہ کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے متنازع منصوبے میں پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اطراف کے تمام ممالک سے شاندار تعاون ملا ہے، ہر ایک نے تعاون کیا ہے لہٰذا کچھ اچھا ہونے والا ہے، ٹرمپ نے مزید کہا کہ مناسب وقت پر ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا جائے گا، وہ وقت قریب ہوسکتا ہے، غاصب اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو کا دورہ جنوری میں صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کا تیسرا امریکی دورہ ہے، غزہ میں جنگ بندی کے متعلق ٹرمپ نے کہا معاملات بہت اچھے طریقے سے چل رہے ہیں، اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا غزہ کے حوالے سے ایک وژن ہے جس میں فلسطینیوں کو انتخاب کا حق ہوگا، اگر لوگ رہنا چاہتے ہیں تو وہ رہ سکتے ہیں لیکن اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو انہیں جانے کے قابل ہونا چاہیے، خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان عشائیے کی ابتدا میں بنجمن نیتن یاہو نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا اور اسرائیل دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں جو فلسطینیوں کو بہتر مستقبل دینا چاہتے ہیں، ان کا اشارہ اس امکان کی طرف تھا کہ غزہ کے رہائشیوں کو ہمسایہ ممالک میں منتقل کیا جاسکتا ہے، نیتن یاہو نے کہا کہ اگر لوگ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہ سکتے ہیں لیکن اگر وہ جانا چاہیں تو انہیں جانے کی اجازت ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے ساتھ قریبی تعاون کررہے ہیں تاکہ ایسے ممالک تلاش کیے جاسکیں جو فلسطینیوں کو بہتر مستقبل دینے کی بات ہمیشہ کرتے رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہم کئی ایسے ممالک کے قریب پہنچ چکے ہیں، ابتدائی طور پر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ان بیانات پر خاموشی اختیار کی لیکن بعد میں کہا کہ اردگرد کے ممالک تعاون کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں اطراف کے تمام ممالک سے شاندار تعاون ملا ہے، ہر ایک نے تعاون کیا ہے لہٰذا کچھ اچھا ہونے والا ہے، اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر کسی بھی ممکنہ آزاد فلسطینی ریاست کو اسرائیل کی تباہی کیلئے ایک پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے اور اسی وجہ سے اُن کے مطابق سکیورٹی کے تمام اختیارات اسرائیل کے پاس ہی رہنے چاہئیں۔
جب صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے فلسطین کے دو ریاستی حل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم اور یہ سوال نیتن یاہو کی طرف موڑ دیا، نیتن یاہو نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی حکمرانی کے تمام اختیارات حاصل ہونے چاہئیں لیکن ایسے کوئی اختیارات نہیں ہونے چاہئیں جن سے وہ ہمیں خطرے میں ڈال سکیں، اس کا مطلب ہے کہ مکمل خودمختاری نہیں یعنی فلسطینیوں کو دفاع کا اختیار نہیں ہوگا، یہ ہمیشہ ہمارے ہاتھ میں رہے گا، انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد لوگوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس تو غزہ میں ایک ریاست تھی اور دیکھیں انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا، انہوں نے اسے تعمیر نہیں کیا بلکہ زمین کے نیچے پناہ گاہیں، دہشت گرد سرنگیں بنائیں، ہمارے شہروں، اور قصبوں پر حملہ کیا، یہ ہولناک تھا جو دوسری عالمی جنگ اور نازیوں کے زمانے کے بعد دوبارہ دیکھنے میں نہیں آئے، اس لئے لوگ اب یہ نہیں کہیں گے کہ چلو انہیں ایک اور ریاست دے دیتے ہیں کیونکہ وہ ایک اور ریاست اسرائیل کو تباہ کرنے کیلئے استعمال ہوگی، نیتن یاہو نے کہا کہ ہم ان فلسطینی ہمسایوں کے ساتھ امن قائم کریں گے جو ہمیں تباہ نہیں کرنا چاہتے اور ایسا امن قائم کریں گے جس میں ہماری سلامتی یعنی خودمختار سکیورٹی اختیار ہمیشہ ہمارے پاس ہی رہے گا، انہوں نے مزید کہا کہ اب لوگ کہیں گے کہ یہ مکمل ریاست نہیں یا یہ ریاست ہی نہیں یا یہ کچھ اور ہے مگر ہمیں پروا نہیں، ہم نے قسم کھائی ہے، کبھی دوبارہ نہیں اور وہ وقت اب ہے، یہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔
منگل, جنوری 20, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

