عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی شعبے میں بہتری کے باوجود ملک کی معاشی ترقی میں تنزلی برقرار ہے، واضح رہے 2022ء میں فوج کی جانب سے عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد معاشی تنزلی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ خطرنات حد تک پہنچ چکا ہے جبکہ الیکشن میں نتائج میں تبدیلی کے نتیجے میں برسراقتدار حکومت کا کہنا ہے کہ معیشت درست ہوچکی ہے اور مہنگائی 70 سالہ دور کے مقابلے میں نچلی سطح پر آچکی ہے جبکہ بازار پر نظر رکھنے والے اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں، آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے اسٹاف لیول معاہدے کی نئی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال کے بارے میں کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام پر بھرپور عمل درآمد کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مالیاتی شعبے میں بہتری آئی ہے، عالمی ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاشی بحالی، مہنگائی کی شرح میں کمی، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے میں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود خطرات موجود ہیںعالمی ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاشی بحالی (حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق) مہنگائی کی شرح میں کمی، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے میں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کو سنگین نوعیت کے خطرات موجود ہیں، آئی ایم ایف نے اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ ان خطرات میں عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورت حال، جیو پولیٹیکل سطح ہر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور داخلی طور پر مسائل شامل ہیں، آئی ایم ایف کے مطابق امریکہ کی جانب سے ٹیرف بڑھانے کی پالیسی پاکستان کی معاشی اور مالیاتی صورتحال کیلئے نمایاں مسئلے کی حامل ہے، اسی طرح اجناس کی قیمتوں میں جیو پولیٹیکل حالات کی وجہ سے ہونے والا اضافہ، عالمی سطح پر سخت ہوتی مالیاتی صورتحال، ترسیلات زر میں کوئی کمی یا تجارتی شراکت داروں کی جانب سے تجارتی رکاوٹیں پاکستان کے بیرونی شعبے کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
پاکستان سے متعلق آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی یا سماجی کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے پالیسی اور اصلاحات کی عملدرآمد پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، آئی ایم ایف نے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کے خطرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ملک میں قدرتی آفات کے زیادہ خطرات موجود ہیں، دوسری طرف اقوامِ متحدہ نے پاکستان کی معیشت میں 2025 کے دوران 2.3 فیصد نمو کی پیش گوئی کی ہے، جوکہ پچھلے سال کی کساد بازاری کے بعد استحکام کی علامت ہے جبکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت 1 ارب ڈالر جاری کیے ہیں، اور مزید 1.4 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے، واضح رہے کہ چین نے مارچ 2025 میں 2 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کیا ہے اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی مالیاتی استحکام کیلئے اسٹیٹ بینک کے پاس رکھوائے گئے امانتی رقوم کے عرصے کو بڑھادیا جوکہ پاکستان کی مالی استحکام کا سبب بنا ہے، ہندوستان کیساتھ حالیہ فوجی تنازع تجارتی پابندیاں اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، اپریل 2025 کے دوران پاکستان کی برآمدات میں کمی جب کہ درآمدات میں اضافہ کا رجحان دیکھا گیا، برآمدات 17.66 فیصد کمی سے 2.178 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئیں۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

