خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نا معلوم مسلح افراد کی جانب سے کوئٹہ جانے والے تعمیراتی کمپنی کے 11 ملازمین کو اغوا کرلیا ہے جبکہ 5 مزدوروں کو رہا کردیا گیا ہے تاہم پولیس نے رہا کئے گئے افراد کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اغواکاروں سے رہائی پانے والے افراد عام مزدور ہیں، یہ واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان سے بلوچستان کے شہر ژوب جانے والی شاہراہ پر تھانہ درابن کی حدود میں پیش آیا ہے، پولیس کے مطابق تعمیراتی کمپنی کے لگ بھگ 16 ملازمین دو سے تین گاڑیوں میں کوئٹہ کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں گرہ خان کے مقام پر مسلح افراد نے ان کی گاڑیوں کو روکا اور اسلحے کے زور پر انھیں گاڑیوں سمیت نامعلوم مقام کی طرف لے گئے ہیں، پولیس نے انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کو مراسلے میں لکھا ہے کہ تعمیراتی کمپنی کے ملازمین موٹر کار فیلڈر اور سنگل کیبن میں جارہے تھے جنھیں 14 سے 15 مسلح افراد اسلحہ کے زور پر نامعلوم مقام کی طرف لے گئے ہیں، درابن پولیس کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ایک گاڑی میں سوار پانچ افراد واپس آگئے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑی جنگل میں پھنس گئی تھی اس لئے مسلح افراد انھیں چھوڑ کر باقی لگ بھگ 10 ملازمین کو ساتھ لے گئے ہیں، مقامی پولیس کے مطابق ان ملازمین کی بازیابی کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جس میں پولیس کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں درابن، کلاچی، مڈی، زر کنڑی اور قریبی علاقوں میں مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اور ان علاقوں میں اغوا کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، ان میں چند ماہ پہلے فوجی افسران، ججز اور پیپلزپارٹی کے رہنما کو اغوا کیا گیا تھا جنھیں بعد میں بازیاب کرالیا گیا تھا۔
ادھر لکی مروت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے قبول خیل پراجیکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا، ان ملازمین کو اس سال فروری میں اغوا کیا گیا تھا جن میں سے کچھ کو رہا کردیا گیا تھا جبکہ ایک ملازم شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے، یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے 30 مئی کو بلوچستان کے ضلع سوراب میں پاکستان کی سکیورٹی مقتدرہ ہندوستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے سرکاری افسران کی رہائش گاہوں پر حملہ کردیا تھا، حملے کے دوران اہلخانہ کا دفاع کرتے ہوئے دہشت گردوں سے لڑائی کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت بلیدی شہید ہوگئے تھے، دہشت گردوں نے سرکاری افسران کی رہائش گاہوں کو نذر آتش کرکے بینک کو لوٹ لیا تھا، یاد رہے کہ 2 روز قبل بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو نامعلوم مسلح ملزمان نے اغوا کر لیا تھا، لیویز ذرائع نے بتایا تھا کہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو نامعلوم مسلح افراد نے سرینکین کے مقام سے اغوا کیا۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

