روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے حال ہی میں طے شدہ جزوی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ جاری رکھا تو ماسکو جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت کی اور امریکی ثالثی میں جزوی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کے تحت ماسکو نے ٹرمپ کی جانب سے جزوی جنگ بندی کو قبول کرلیا مگر کیف نے ایسا نہیں کیا اور روس کے توانائی کے مراکز پر حملہ کردیا، روس نے یوکرین کو متنبہ کیا ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملے نہیں روکے تو یوکرین کے توانائی مراکز پر حملہ کردے گا، یوکرین کے ولادیمیر زیلنسکی نے بھی توانائی مراکز پر حملہ نہ کرنے کی شرائط سے اتفاق کیا تھا، اس کے باوجود کیف نے معاہدے کے اگلے ہی دن روس کے کراسنودار علاقے میں تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا اور جمعہ کو سودزہ میں ایک گیس مانیٹرنگ اسٹیشن کو دھماکے سے اڑا دیا، زاخارووا نے ہفتے کے روز ایک پریس بیان میں کہا کہ یوکرین کی فوج نے جان بوجھ کر رہائشی عمارتوں اور سماجی اداروں کو بھی نشانہ بنایا، کیف ایک بار پھر مذاکرات کے لئے اپنی مکمل نااہلی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ امن کے حصول کی خواہش کی کمی کا بھی اظہار کررہا ہے، ترجمان نے کہا 2022 کی طرح یوکرین نے ایک بار پھر اشتعال انگیزیوں کا رخ کیا ہے جس کا مقصد مذاکراتی عمل میں خلل ڈالنا ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ماسکو جوابی کارروائی کیلئے آزاد ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ کیف نے منگل کی رات جنوبی روس میں کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کی طرف سے چلائی جانے والی تیل کی تنصیب پر حملہ کیا تھا، امریکی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے فوراً بعد۔ سی پی سی کے بین الاقوامی شیئر ہولڈرز میں امریکی کمپنیاں شیورون اور ایکسن موبائل شامل ہیں، جمعہ کے اوائل میں یوکرین کی افواج نے سودزہ میں ایک گیس مانیٹرنگ اسٹیشن کو تباہ کر دیا جب وہ روس کے کرسک علاقے سے پیچھے ہٹ رہے تھے، ماسکو نے دونوں حملوں کو یوکرین کی جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے اور کیف پر امریکی امن کی کوششوں کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے، کریملن کے مطابق پوتن نے منگل کو ٹرمپ کے ساتھ اپنی فون کال میں کیف کی امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا، اس ہفتے کے شروع میں کریملن پریس سروس نے کہا کہ روسی رہنما نے زور دے کر کہا کہ یوکرین نے بار بار تخریب کاری کی ہے اور طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
ہفتہ, مارچ 7, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

