ایران کی سب سے بڑی شہید رجائی بندرگاہ میں لگنے والی آگ کو دو دن بعد بجھا دیا گیا ہے جس میں کم از کم 65 افراد ہلاک اور 1,000 سے زائد زخمی ہو گئے تھے، متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے والے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پیر کو سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ صرف 120 زخمی اب بھی اسپتال میں ہیں بقیہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتالوں سے رخصت کردیا گیا،فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا لیکن پورٹ کسٹم آفس نے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر خطرناک کیمیائی مواد کو ذخیرہ کرنے والے ایک ڈپو میں آگ لگنے کے نتیجے میں ہوا، اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی نے آگ بجھانے والے فائر فائٹرز کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ آگ پر مکمل طور پر قابو پانے کے بعد نقصان کا اندازہ لگایا جائے گا، مومنی نے پیر کو کہا کہ ذمہ داروں کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں طلب کر لیا گیا ہے، یہ کہ آگ کوتاہیوں، بشمول حفاظتی احتیاطی تدابیر کی عدم تعمیل اور غفلت کی وجہ لگی تھی، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
غیرملکی ماہرین کی قیاس آرائیوں کے باوجود ایران نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ دھماکہ میزائل ایندھن کی کھیپ کی وجہ سے ہوا تھا، حکام نے پیر کو قومی یوم سوگ کا اعلان کیا جب کہ صوبہ ہرمزگان میں اتوار کو تین روزہ سوگ کا آغاز ہوا، اگرچہ ایرانی حکام اب تک دھماکے کو ایک حادثہ قرار دے رہے ہیں،ایران ماضی میں اسرائیل پر ایسے حملوں کے پیچھے ہونے کا الزام لگاتا رہا ہے، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسرائیل نے 2020 میں شہیدرجائی بندرگاہ کو نشانہ بناتے ہوئے سائبر حملہ کیا تھا، آگ بجھانے کے عمل میں روسی بحریہ کے جہازوں نے بھی حصّہ لیا، آگ بجھانے کے فوری بعد نقصانات کا تخمینہ لگانا شروع کردیا گیا ہے، 26 اپریل کو دوپہر کے وقت شہید رجائی بندرگاہ کے سینا کنٹینر یارڈ میں دھماکے کیساتھ آگ بھڑک اٹھی ، یہ دھماکہ ممکنہ طور پر امونیم پرکلوریٹ نامی کیمیکل سے ہوا، جو راکٹ ایندھن میں استعمال ہوتا ہے، اس کیمیکل کی حالیہ کھیپ چین سے مارچ میں بندرگاہ پر پہنچی تھی، ماہرین کے مطابق دھماکے سے قبل سرخ رنگ کے دھوئیں کا اٹھنا کیمیکل ردعمل کی نشاندہی کرتا ہے، جو 2020 کے بیروت بندرگاہ دھماکے سے مشابہت رکھتا ہے۔
بدھ, فروری 25, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

