تحریر: محمد رضا سید
پاکستان کی فضاؤں میں ہندوستانی ڈرون حملوں کے بعد قوم راولپنڈی کے ردعمل کی منتظر ہے، 7 مئی 2025ء کو ہندوستان کی اشتعال انگیزی کے چند گھنٹوں بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلح افواج کو بھرپور عسکری جواب دینے کا اختیار سونپ دیا گیا، یہ بھی واضح کیا گیا کہ اہداف لاک کرنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، ہندوستانی جارحیت کے جواب میں پاک فضائیہ کا کردار کلیدی رہا، 7 مئی کی رات جب مودی حکومت نے پاکستانی سرزمین پر حملہ کیا تو پاک فضائیہ نے دشمن کے رافیل طیارے کو مار گرایا، جس پر دنیا اور خود فرانس بھی حیرت زدہ رہ گئے، موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان سنگین غلطی کر بیٹھا ہے جس کا خمیازہ اسے جلد یا بدیر بھگتنا ہوگا، پاکستانی عوام کی رائے اور جذبہ یہ تقاضا کر رہا ہے کہ ہندوستان کو فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہندوستان سمیت دیگر طاقتور ممالک پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی موجودگی کو جواز بناکر جارحیت پر آمادہ ہو سکتے ہیں، یاد رہےایران بھی ماضی قریب میں اسی نوعیت کی دلیل کے تحت بلوچستان میں پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کر چکا ہے، جس پر پاکستان نے فوری ردعمل دے کر تہران کو واضح پیغام دے دیا تھا۔
جمعرات 8 مئی کو ہندوستانی حملوں کے بعدجارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے عوامی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے، لوگ توقع رکھتے ہیں کہ افواجِ پاکستان اس بار سخت ترین جواب دے گی، اگرچہ پاکستان اس وقت معاشی بحران سے دوچار ہے لیکن یہ دعویٰ درست ہے کہ پاکستان کی معیشت یمن سے کہیں بہتر ہےاور ہماری افواج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ مہینوں تک جنگ جاری رکھ سکتی ہیں، اس وقت قوم مسئلہ کشمیر کے حل تک جنگ جاری رکھنے کی حامی نظر آتی ہے، اب فیصلہ فوجی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ قوم کے جذبات کی ترجمانی کس انداز میں کرتی ہے، قوم ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے، جب یمن جیسا غریب عرب ملک اپنی خودمختاری کیلئے دو برس سے اسرائیل اور امریکہ جیسے طاقتور ممالک کے خلاف برسرپیکار ہے، تو پاکستان بھی اپنی سالمیت کیلئے قدم اٹھا سکتا ہے، خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمیں چین کی مکمل حمایت حاصل ہےاور یہی وقت ہے کہ کشمیریوں کو ہندوستانی تسلط سے نجات دلائی جائے۔
ادھر بڑی طاقتیں، عرب دوست ممالک اور پڑوسی ملک ایران، پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں، ایران چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے ہندوستان کو افغانستان اور وسط ایشیا تک رسائی دے چکا ہے جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہندوستان کے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور تیل کے معاہدوں میں شریک ہیں، ایسے میں پاکستان کو ان کی نصیحتوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف اپنے قومی مفادات پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی، خوش قسمتی سے ترکی، آذربائیجان اور چین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، جو ان کا قابلِ ستائش مؤقف ہے۔
ہندوستان نے جارحیت کے دوسرے روز مبینہ طور پر اسرائیلی ساختہ درجنوں ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس میں ایک شہری جاں بحق اور چار فوجی زخمی ہوئے۔ جمعرات کے روز ملک کے مختلف علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں ماہرین ڈرونز کے ذریعے حساس معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، ہندوستانی میڈیا نے ان حملوں کو سندور 2 کا نام دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ یہ سلسلہ قسط وار جاری رہے گا،سوشل میڈیا پر موصول اطلاعات کے مطابق، لاہور میں ہندوستان کے ڈرون حملہ ایک اہم شخصیت کی گاڑی کے قریب ڈرون گرا، آئی ایس پی آر کے مطابق سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں فائر کیے گئے 25 ہندوستانی ڈرونز کو پاک فضائیہ نے کامیابی سے مار گرایا، معروف گلوکار علی ظفر نے بھی ایکس پر بتایا کہ 8 مئی کی دوپہر ان کے گھر تک دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ماہرین کے مطابق اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز، جو سیٹلائٹ سے کنٹرول ہوتے ہیں، مخالف کے فضائی دفاع اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانے کی خاص صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری طرف وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان مکمل جنگ کے لیے تیار ہے، حالانکہ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا، مگر ہندوستان حالات کو مزید بگاڑنے پر تُلا ہوا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ جب پاکستان حملہ کرے گا تو سب کو معلوم ہو جائے گا، “ہم حملہ کر کے اس کی تردید نہیں کریں گے، ہندوستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے میزائل اور ڈرونز سے جموں، ادھم پور (مقبوضہ کشمیر) اور پٹھان کوٹ (انڈین پنجاب) میں تین فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم ابھی تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، وزیرِ دفاع نے ہندوستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں کسی بھی پاکستانی مداخلت کی تردید کی۔
ہفتہ, مارچ 7, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

