برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ایٹمی جنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے از سر نو سفارتی روابط اور بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں دیرینہ کشیدگیوں کو حل کرنے کیلئے مزید فعال اور متوازن کردار ادا کرے، یہ بات دارالعوام کی خارجہ امور کمیٹی کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے، جو برطانیہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں ایک وسیع تحقیق کا حصہ ہے، قانون سازوں نے اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، جب بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خطے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی، رپورٹ میں فوجی موجودگی میں اضافے، شہری آزادیوں پر پابندیوں، صحافتی آزادی پر قدغنوں اور بلاجواز گرفتاریوں کا حوالہ دیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق خطے میں جمہوری حقوق میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، برطانوی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکمرانی کا بھی جائزہ لیا، تاہم ان علاقوں کی صورتحال مقبوضہ کشمیر سے مختلف ہے، رپورٹ میں جمہوری پابندیوں اور مکمل آئینی نمائندگی کی کمی کے حوالے سے جاری خدشات کا ذکر کیا گیا ہے، کمیٹی نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف انسانی حقوق اور سیاسی حالات کی نگرانی جاری رکھے، سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی کمیٹی نے برطانوی حکومت سے کہا ہے کہ وہ نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں کے ساتھ اپنے سفارتی ذرائع اور تاریخی روابط کا زیادہ بھرپور استعمال کرے، تاکہ بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، رپورٹ میں برطانیہ کی اس پوزیشن کو دہرایا گیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ طور پر حل ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی زور دیا گیا کہ یہ برطانیہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خدشات ظاہر کرنے سے نہیں روکتا، پارلیمنٹیرینز نے فارن، کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک پر دباؤ ڈالے، تاکہ بین الاقوامی نگرانوں بشمول برطانوی پارلیمنٹیرینز اور سفارت کاروں کو متنازع علاقے کے دونوں طرف جانے کی زیادہ رسائی دی جائے۔
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ برطانیہ ایک متوازن حکمت عملی اپنائے، دونوں حکومتوں کے ساتھ برابر تعلقات استوار کرے اور کسی قسم کی جانبداری کا تاثر پیدا نہ ہونے دے، ساتھ ہی اپنی سفارت کاری کو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، اور انسانی حقوق کے احترام جیسی برطانوی اقدار پر مبنی رکھے، رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ برطانیہ میں موجود کشمیری مہاجرین کی آرا کو غور سے سننا چاہیے، حکومت کو کمیونٹی کے خدشات کا خیال رکھنے کی ترغیب دینی چاہیئے، امن اور مفاہمت کو فروغ دینے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیئے، ہندوستان اور پاکستان 2020 کی دہائی کیلئے برطانیہ کی خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ رپورٹ برطانوی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے وسیع جائزے کا حصہ ہے، کمیٹی نے دلیل دی کہ برطانیہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے سامنے غیر فعال نہیں رہ سکتا، کمیٹی نے نتیجہ نکالا کہ محتاط مگر اصولی سفارت کاری، حقوق کی مسلسل نگرانی، اور دونوں طرف تعلقات قائم کرنے کی رضا مندی تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

