ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے امریکہ کیساتھ جوہری معاملے پر سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کی ترقی کیلئے ہمارے پاس سینکڑوں متبادل موجود ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ایران اپنے سائنسدانوں اور علمی اور فنی ماہرین کی بدولت پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگیا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران پر سفارت کاری میں مشغول ہونے کی بجائے پابندیاں لگائی جائیں تو اس کے پاس سینکڑوں مؤثر متبادل موجود ہیں، دشمن غلط طور پر سمجھتا ہے کہ ملک کمزور ہوگیا ہے، پیر کے روز دارالحکومت تہران میں پیزشکیان جو ملک کی نجی یونیورسٹی کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے قومی ہم آہنگی اور ملک کے اندر مختلف صفوں میں کھڑی تقسیم کو حل کرنے پر زور دیا تاکہ ملک کی حالت کو مزید بہتر بنایا جا سکے، ہمیں صرف تنازعات کے بجائے ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے مسائل پر قابو پانے کیلئے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کام کرنا چاہیے، امریکہ کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے بالواسطہ مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکراتی عمل میں مثبت انداز میں آگے بڑھانے کے بجائے ایران پر مزید غیر قانونی پابندیاں لگارہا ہے، انہوں نے زور دے کر کہا اگر امریکہ بات چیت کرنے کے بجائے ہمیں تسلیم کرانے کی کوشش کرئے گا تو ہمارے پاس ترقی اور معاشی استحکام کیلئے سینکڑوں متبادل طریقے اور راستے موجود ہیں، ایرانی صدر نے کہا کہ کچھ ایسے ذرائع ہیں جو ایران نے پابندیوں کو روکنے کے لئے استعمال کیے ہیں جیسا کہ اس نے اپنے اقتصادی تعلقات کو متنوع بنانے اور انہیں وسعت دینے اور ملکی پیداوار کو کثیر الجہت شعبوں میں فروغ دیا ہے، پیزشکیان نے یورینیم کی صفر افزودگی پر واشنگٹن کے اصرار کو غیرمنطقی قرار دیتے ہوئے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کے امریکی مطالبے کو احمقانہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ ایران کی مقتدرہ نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کے کسی بھی امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے جبکہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ کسی بھی موثر سفارتی طریقہ کار کو امریکی پابندیوں کے معاملے کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ کی متنازعہ زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی پالیسی کو جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے، پیزشکیان نے ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو ایرانی قوم بھوک سے مر جائے گی، ہم متبادل راستہ تلاش کریں گے، انہوں نے وضاحت کی ایران کے توانائی اور معدنیات کے وسائل اور افرادی قوت امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کافی ہیں، ہمیں صرف اتنا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اکٹھے ہوں، متحد ہوں اور اشرافیہ کو میدان میں کام کرنے دیں، اپنے ریمارکس میں اضافہ کرتے ہوئے، چیف ایگزیکٹو نے بڑی طاقتوں پر غیر ضروری انحصار کے تصور کو مسترد کردیا، انہوں نے کہا کہ اگر ہم دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں تو ہم ناکام ہو جائیں گے، اُدھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ جوہری مذاکرات میں عبوری معاہدہ ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے، ایک عبوری معاہدہ کبھی بھی ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا اور اسی وجہ سے اسے مذاکرات کے اس دور میں بھی نہیں اٹھایا گیا ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

