پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ 1 لاکھ 35 ہزار پاکستانیوں نے یورپ اور امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دی ہیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اورسیز پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزارت سمندر پار پاکستانی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں کے ویزوں کی تعداد کمی کیساتھ ویزے کی اصول کیلئے کوائف سخت کر دیئے ہیں، اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 2023 سے ڈی پورٹ والے پاکستانیوں کی تعداد 52 ہزار سے زائد ہے جبکہ 5 ہزار بھکاری سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیے گئے، دوران اجلاس ڈی جی پاسپورٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ کچھ ممالک پاکستانیوں کو پاسپورٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے جیل میں نہیں ڈالتے فورا پاکستان کے حوالے کردیتے ہیں، گزشتہ سال 34 ہزار پاکستانی ایران سے ڈی پورٹ ہوئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ بلاک کردیئے ہیں جرائم میں ملوث پاکستانی شہریوں کو سخت سزائیں دیں رہے ہیں، ڈی جی پاسپورٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ یو اے ای، اٹلی، برطانیہ اور یورپ کے کچھ ممالک نے اسٹوڈنٹس ویزہ بند کردیا ہے، یورپی ممالک میں 1 لاکھ پچیس ہزار امریکا میں 10 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے، ڈی جی پاسپورٹ نے مزید بتایا کہ ایک کروڑ 3 لاکھ پروفیشنل پاکستانی باہر دنیا میں کام کررہے ہیں، ڈی جی پاسپورٹ نے ریکارڈ سینیٹ کمیٹی میں پیش کرکیا جس کے مطابق 2 سال میں 52 ہزار سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے جبکہ ایران نے غیر قانونی طور پر جانے والے 34 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجا، اپریل 2022ء میں عمران خان کی حکومت کو فوج کی جانب سے ہٹانے جانے اور کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو اقتدار دینے کے بعد پاکستانیوں میں شدید مایوسی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں 2022ء کے بعد 832,339 پاکستانیوں نے ملک چھوڑ دیا، جس میں ملک کے اہم اور نامور صحافی بھی شامل تھے جبکہ جنوبی افریقہ میں پاکستان کے ایک نامور صحافی ارشد شریف کو بیدردی سے قتل کردیا جبکہ پاکستان میں صحاافی عمران ریاض خان کو حج بیت اللہ سے جانے سے روک کر لاپتہ کردیا گیا۔
2023ء میں ہائیلی اسکلڈ (ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ) افراد کی بیرونِ ملک منتقلی 119 فیصد بڑھ کر 45687 ہوگئی، 2022ء میں 17,976 ہائیلی کوالیفائیڈ افراد نے بیرونِ ملک ملازمت اختیار کی، جن میں انجینئرز، ڈاکٹرز، آئی ٹی ماہرین، اکاؤنٹنٹس اور اساتذہ شامل تھے، 2023ء میں 862,625 پاکستانیوں نے روزگار کیلئے بیرونِ ملک رجسٹریشن کروائی، جن میں 314,932 ہنر مند اور 426,951 سعودی عرب جانے والے شامل تھے، بیشتر پاکستانیوں نے خلیجی ممالک کا رخ کیا، یورپی ممالک میں رومانیہ نے بھی پاکستانی مزدوروں کو بڑی تعداد میں قبول کیا ہے، واضح رہے کہ ڈاکٹرز، نرسز، اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بڑی تعداد میں بیرونِ ملک منتقلی سے پاکستان کے صحت کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہیں، اگرچہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم برین ڈرین سے ملک کی طویل مدتی ترقی اور خود انحصاری پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں حالانکہ پاکستان کا موجودہ نظام زرترسیلات میں اضافے سے خوش ہے جوکہ مستقبل میں پاکستان کیلئے مشکل صورتحال کو جنم دیں، برین ڈرین پاکستان کیلئے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت کو معاشی استحکام، سیاسی بہتری، اور ہنر مند افراد کیلئے بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملک میں رہ کر ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
بدھ, مارچ 4, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

