صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ تر ممالک پر محصولات پر 90 دن پورے ہونے کے بعد 9 جولائی کے بعد محصولات نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے اُنھوں نے کہا کہ وہ محصولات کے حوالے سے باہمی معاہدات کیلئے 90 روز کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی نہیں کررہے ہیں، انحوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ تمام ملکوں کو مطلع کرے گی کہ تجارتی جرمانے اس وقت تک نافذ العمل ہوں گے جب تک کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے نہیں ہوتے، انہوں نے کہا کہ خطوط قریب آنے والی آخری تاریخ سے بہت جلد نکلنا شروع ہو جائیں گے، ہم دیکھیں گے کہ دنیا ہمارے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے، کیا دنیا کا اچھا برتاؤ ہوگا، کیا ممالک اتنے اچھے نہیں ہیں کچھ ممالک جن کی ہمیں پرواہ نہیں ہے، ٹرمپ نے جمعہ کو ٹیپ کیے گئے اور اتوار کو نشر کیے گئے ایک وسیع انٹرویو کے دوران فاکس نیوز چینل کے سنڈے مارننگ فیوچر کو بتایا کہ ان خطوط میں لکھا جائیگا کہ مبارک ہو، آپ اپنی اشیاء کو امریکہ میں فروخت کرنے کیلئے 25 فیصد ٹیرف، یا 35 فیصد یا 50 فیصد یا 10 فیصد ادا کرنے جارہے ہیں، ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کی ایک نیوز کانفرنس میں یہ بتاتے ہوئے آخری تاریخ ختم ہوتے ہی ہر ملک کے ساتھ الگ الگ سودے کرنا کتنا مشکل ہوگا، انتظامیہ نے 90 دنوں میں 90 تجارتی معاہدات کرانے کا ہدف مقرر کیا تھا، انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن 200 ممالک ہیں آپ ان سب سے بات نہیں کر سکتے۔
ٹرمپ نے اس انٹرویو کے دوران ٹک ٹاک ڈیل، چین کے ساتھ تعلقات، ایران پر حملوں اور اس کے امیگریشن کریک ڈاؤن پر بھی بات چیت کی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ دولت مند سرمایہ کاروں کا ایک گروپ ٹِک ٹاک خریدنے کی پیشکش کرے گا، اُنھوں نے کہا کہ ایک معاہدے ہی اس مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے، جو چین کے بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے، ویسے ہمارے پاس ٹِک ٹاک کا خریدار ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ شاید چین کی منظوری کی ضرورت ہوگی اور مجھے لگتا ہے کہ صدر شی جن پنگ شاید یہ کریں گے، ٹرمپ نے سرمایہ کاروں کے بارے میں کوئی تفصیلات پیش نہیں کیں بس یہ کہا کہ ٹک ٹاک کو بہت امیر لوگوں کا گروپ خریدنا چاہتا ہے، اُنھوں نے اس سودے سے متعلق تفصیلات پوچھنے پر کہا کہ میں آپ کو تقریباً دو ہفتوں میں بتاؤں گا، یہ ایک ایسا ٹائم فریم ہے جس کا ٹرمپ اکثر حوالہ دیتے ہیں، اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں براہ راست ملوث تھی اور امریکہ نے چند روز بعد ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں نے اس کی جوہری تنصیبات کو ختم کردی ہیں، انہوں نے کہا کہ جس نے بھی ابتدائی انٹیلی جنس تشخیص کو لیک کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی حملے کے باوجود تہران کے جوہری پروگرام کو صرف چند ماہ پیچھے کیا گیا ہے اور ایران کی ایٹمی پروگرام چلانے کی استعداد برقرار ہے، ٹرمپ نے کہا میں چاہتا ہوں کہ انٹیلی جنس رپورٹ لیک کرنے والے کے خلاف مقدمہ چلایا جائے، اس سے قبل ٹرمپ نے اس رپورٹ کے لیک ہونے پر بعض امریکی میڈیا آؤٹ لیٹس پر سخت ناراض ہوئے تھے، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بھی کہا ہے کہ بظاہر ایران کی ایٹمی تنصیبات کو ناقابل تلافی نقصان نہیں پہنچا ہے تاہم ایٹمی تنصیبات کے معائنہ کے بعد درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

