ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کے قانون کی حتمی منظوری دیدی ہے، واضح رہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے ایران کے خلاف سیاسی عزائم پر مبنی قرارداد منظور کرکے امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف جارحیت کیلئے حوصلہ افزائی کی، صدر پیزشکیان نے بدھ کے روز باضابطہ طور پر اس قانون پر دستخط کردیئے، ایران کی پارلیمنٹ کے 25 جون 2025ء کے اجلاس کے دوران آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کا قانون منظور کیا تھا، قانونی بل کے مطابق آئی ای اے کے معائنہ کاروں کو اس وقت تک ایران میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ ملک کی جوہری تنصیبات اور پرامن جوہری سرگرمیوں کی حفاظت کی ضمانت نہ دی جائے جوکہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری سے مشروط ہے، ایران آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی پر بھی ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرنے پر بھی غور کررہا ہے، ایران نے آئی اے ای اے کے خلاف اقدامات اِن رپورٹوں کے سامنے آنے کے بعد کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس عالمی ادارے نے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کیں جس کی بنیاد پر اسرائیل نے کامیاب حملوں میں ایرانی سائنسدان کو شہید کیا، ایرانی پارلیمنٹ نے آئی اے ای اے کے سربراہ نے بورڈ آف گورنرز کو بے بنیاد رپورٹ پیش کی جسکی بنیاد پر ایران مخالف قرارداد منظور کی گئی جوکہ اسرائیلی حکومت کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت شروع کرنے کا بہانہ بن گئی، خیال رہے 22 جون کو امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر بین الاقوامی قانون اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نطنز، فردو اور اصفہان کے جوہری مقامات پر بمباری کی جبکہ آئی اے ای اے کے سربراہ گروسی نے امریکی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے، رافیل گروسی کو لکھے گئے خط میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلمی نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے خلاف تادیبی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے عالمی ایٹمی ایجنسی سے عدم تعاون کا فیصلہ واضح طور پر تشویشناک ہے، سکریٹری جنرل نے ایران سے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کرنے کے اپنے مطالبے میں بہت مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا ہے اور واضح طور پر تمام ممالک کو جوہری مسائل پر آئی اے ای اے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا ہے، ایرانی صدر کے باضابطہ طور پر معطلی کو نافذ کرنے کے جواب میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے 2015 کے جوہری معاہدے کے یورپی دستخط کنندگان پر زور دیا کہ وہ اسنیپ بیک میکانزم کو متحرک کریں اور ایران پر اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں بحال کریں، جرمنی نے کہا کہ ایران کے فیصلے نے تباہ کن سگنل بھیجا ہے، ایران کیلئے ضروری ہے کہ سفارتی حل کیلئے آئی اے ای اے کے ساتھ کام کرے، آئی اے ای اے نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایران سے مزید سرکاری معلومات کا انتظار کر رہا ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

