بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹوں کو والد سے فون پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرجاری بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سابق شوہر تقریباً 2 سال سے قید تنہائی کا شکار ہیں، جمائمہ گولڈ اسمتھ نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر ان کے بیٹوں نے پاکستان جا کر ان سے ملنے کی کوشش کی تو انہیں بھی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا، ایسا کسی جمہوریت یا دنیا میں نہیں ہوتا، یہ سیاست نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا فعل ہے، خیال رہے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان کے دونوں بیٹے قاسم اور سلیمان اپنے والد اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملنے آرہے ہیں جبکہ وہ اپنے والد کی رہائی کی تحریک میں حصّہ بھی لیں گے، اس سے قبل حکمراں اتحاد میں شامل مریم نواز سمیت دیگر رہنما دونوں بیٹوں کو پاکستان نہ آنے کا طعنہ دے رہے تھے، یاد رہے کہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کسی نے بیرون ملک سے آکر دنگا فساد کرنے کی کوشش کی تو اسے گرفتار کرلیا جائے گا، بیرسٹر عقیل ملک بھی واضح کرچکے ہیں اگر برطانوی پاسپورٹ ہولڈر کسی شخص نے سیاسی مہم چلانے کی نیت سے ویزے کی درخواست دی تو اسے ویزا جاری ہی نہیں کیا جاسکتا، مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ اگر قاسم اور سلیمان پاکستان آئے تو وہ یہاں کی گرمی میں پگھل جائیں گے لیکن والد کو رہا نہیں کروا پائیں گے، انہوں نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو صرف اپنے درست رویے سے ہی رہائی مل سکتی ہے، یاد رہے کہ اس سے قبل عمران خان کے بیٹے قاسم نے بھی ایکس پر پیغام میں کہا تھا کہ ان کے والد کو اپنے بچوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں، ذاتی معالج تک رسائی بھی نہیں دی جارہی ہے، سیاسی بنیادوں پر سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں اب 700 دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے کہ وہ جیل میں ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ سے لائے گئے جج ڈوگر کو اس کورٹ کا چیف بنادیا ہے جن کے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ سینئر ترین ججوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی اپیل کی سماعت میں تاخیر کی وجہ سے انہیں رہائی نہیں مل رہی ہے جبکہ دیگر ہزاروں کیسز میں وہ ضمانت حاصل کرچکے ہیں، دوسری طرف اہم سیاسی پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی صاف بتادیا ہے ہمیں مکمل طور پر علم ہے کہ صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف کو نشانہ بنانے والی مذموم مہم کے پیچھے کون ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں محسن نقوی نے کہا کہ میں واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ نہ تو اس بارے میں کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی صدر زرداری سے استعفیٰ لینے یا چیف آف آرمی اسٹاف کے صدر بننے کی کوئی تجویز زیرِ غور ہے، وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ صدرِ پاکستان کو مسلح افواج کی قیادت کے ساتھ ایک مضبوط اور باوقار تعلق حاصل ہے، انہوں نے صاف الفاظ میں کہا ہے مجھے معلوم ہے یہ جھوٹ کون پھیلا رہا ہے، وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور اس پروپیگنڈے سے کسے فائدہ پہنچے گا، اپنے پیغام میں محسن نقوی نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی واحد توجہ پاکستان کی طاقت اور استحکام پر ہے اور کسی چیز پر نہیں۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

