پاکستان کی وزارت اقتصادی امور کی رپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران 26 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زائد غیر ملکی فنانسنگ حاصل کی جو مالی سال 24-2023 سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، رپورٹ کے مطابق دوست ممالک سعودی عرب، چین، امارات سے 12 ارب ڈالر قرض رول اوور ہوا، آئی ایم ایف سے 2 ارب ڈالر ملے، 12 ارب 13 کروڑ ڈالر پراجیکٹ فنانسنگ اور بجٹری سپورٹ کی مد میں فنانسنگ ہوئی، وزارت اقتصادی امور کے مطابق گزشتہ ماہ جون 2025 میں 5 ارب 24 کروڑ 56 لاکھ ڈالر فنانسنگ حاصل کی گئی، جون 2024 میں یہ فنانسنگ 2 ارب 25 کروڑ 74 لاکھ ڈالر تھی، گزشتہ مالی سال کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت 4 ارب 83 کروڑ 88 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، دستاویز میں بتایا گیا کہ کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت فنانسنگ کا تخمینہ 4 ارب 57 کروڑ 75 لاکھ ڈالر لگایا گیا تھا، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2 ارب 13 کروڑ ڈالر قرض ملا، عالمی بینک گروپ سے ایک ارب 37 کروڑ ڈالر، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے 74 کروڑ ڈالر ملے، یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ باہمی معاہدوں کے تحت مالی سال 2025 کے دوران 60 کروڑ ڈالر حاصل کیے گئے جس میں چین نے 10 کروڑ ڈالر، سعودی عرب نے 22 کروڑ ڈالر فراہم کیے، چار ارب 29 کروڑ 78 لاکھ ڈالر فارن کمرشل بینکوں سے قرض حاصل کیا گیا، وزارت اقتصادی امور کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفیکٹ کی مد میں 1 ارب 91 کروڑ 80 لاکھ ڈالر قرض حاصل کیا گیا، گزشتہ مالی سال 2024 کے دوران 1.5 ارب ڈالر کے بانڈز کا اجرا نہیں ہو سکا، ذرائع کے مطابق رواں مالی سال بھی دوست ممالک سے 12 ارب ڈالر رول اوور کرایا جائے گا، دوسری طرف فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے تجارتی و صنعتی وفد کے ہمراہ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ہے جنہوں نے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اختیارات میں حالیہ توسیع کی وجہ سے بزنس کمیونٹی میں پائی جانے والے اصطراب کو ختم کرانے کیلئے کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
عاطف نے ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، آرمی چیف سے ملاقات اُس وقت ہوئی جب پاکستان کے دو بڑے شہر کراچی اور لاہور میں تاجروں نے ہڑتال کی تھی، جس کا مقصد مالیاتی قوانین 2025 میں شامل کیے گئے کاروبار مخالف ٹیکس اقدامات کے خلاف احتجاج تھا، عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کاروباری برادری فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس فوری ہدایت پر بے حد مشکور ہے جس میں خاص طور پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 37اے اور 37 بی کے تحت شامل گرفتاری اور حراست کے نئے قوانین کو موثر طور پر معطل کرنے اور ایف بی آر کو اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ معنی خیز اور حل پر مبنی مذاکرات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اُنھوں نے کہا کہ جی ایچ کیو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کی حمایت کرے گا تاکہ تعاون اور اعتماد کا ماحول فروغ دیا جا سکے، ایف پی سی سی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کاروباری برادری کے وفد نے شرح سود کو مہنگائی کے مطابق کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ کاروبار اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) میں کاٹن اور کاٹن یارن کے اخراج سے متعلق ترمیمات کی نوٹیفیکیشن میں تاخیر اور ان کی درآمدات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کی بھی نشاندہی کی۔
منگل, جنوری 20, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

