امریکی صدر ٹرمپ نے خالصتان تحریک کی حامی تنظیم سکھ فار جسٹس کے رہنما گروپتونت سنگھ پنوں کو خط لکھ کر ہندوستان کو 440 واٹ کا جھٹکا مارا ہے کیونکہ بیرون ملک ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را سکھوں کی آزادی کی تحریک سے مربوط رہنماؤں کے قتل میں ملوث امریکہ کے علاوہ کینیڈا نے بھی سکھ رہنما کے قتل میں را کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے کے بعد ہندوستان کی موجودہ حکومت کیساتھ سخت رویہ اختیار کیا ہے، یاد رہے مشرقی پنجاب میں ہندوستان کا اقلیتی فرقہ سکھ بڑی تعداد میں آباد ہیں جو کئی دہائیوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ نے اہنے خط میں امریکی شہریوں کے حقوق اور سلامتی کیلئے لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے، ہندوستان سے علیحدگی کیلئے سرگرم خالصتان تحریک کی حامی تنظیم سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ارسال کردہ خط اپنی ایکس پوسٹ میں شیئر کیا ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے خط میں واضح کیا کہ میں اپنے شہریوں، اپنی قوم اور اپنی اقدار کو سب سے پہلے رکھتا ہوں، جب امریکا محفوظ ہوگا، تبھی دنیا بھی محفوظ ہوگی، امریکی صدر نے کہا کہ میں اپنے شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے لیے لڑنا کبھی نہیں چھوڑوں گا، صدر ٹرمپ کا خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 17 اگست کو واشنگٹن میں خالصتان تحریک کا ریفرنڈم ہونا ہے، ریفرنڈم سے چند ہفتے قبل صدر کا یہ خط نہ صرف سیاسی بلکہ سفارتی حلقوں میں بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے، صدر ٹرمپ کے خط میں تجارت، ٹیرف، دفاعی اخراجات، اور امریکی اقدار پر مبنی پالیسیوں پر زور دیا گیا ہے، صدر ٹرمپ نے خط میں مزید لکھا کہ بطور صدر وہ ان اقدار کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں جو ہمیں امریکی بناتی ہیں، خط کے مندرجات میں امریکا کی خارجہ پالیسی، فوجی تیاری، اور عالمی امداد سے متعلق فیصلے بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کے خط نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، واضح رہے کہ گروپتونت سنگھ پنوں کو بھارتی حکومت 2020 میں دہشت گرد قرار دے چکی ہے، امریکی صدر کی جانب سے موصول خط کو خالصتان تحریک کے لیے خاص اہمیت اختیار کر گیا، اس خط کو سفارتی سطح پر بھارتی حکومت کیلئے ایک اور جھٹکا قرار دیا جارہا ہے، واضح رہے کہ ہندوستان کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر خالصتان تحریک کو کچلنے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں، اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے بھارت کے موقف کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا، ہندوستان کی ناکام سفارتکاری کا بڑا ثبوت امریکی صدر ٹرمپ کا گرو پتونت سنگھ کو خط ہے، یہ خط بھارت کی سفارتی حکمت عملی کی ناکامی اور خالصتان تحریک کی عالمی بازگشت کا بھی ثبوت بن چکا ہے، یاد رہے کہ امریکی صدر اب تک 27 بار پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ بندی کرانے کا اعلان کرکے مودی حکومت کو مشکلات میں ڈال چکے ہیں، جس کا ہندوستانی لوک سبھا میں مودی حکومت کا موقف مذاق بن رہا ہے، امریکہ میں سکھ ریفرنڈم دراصل ایک غیر سرکاری اور علامتی ووٹنگ مہم ہے جو خالصتان کے حامی سکھ گروہ سکھ فار جسٹس کی جانب سے چلائی جارہی ہے، اس کا مقصد دنیا بھر میں سکھوں سے یہ رائے لینا ہے کہ آیا وہ ہندوستان سے الگ ہو کر ایک خودمختار ریاست خالصتان چاہتے ہیں یا نہیں، یہ ریفرنڈم کوئی سرکاری یا قانونی حیثیت نہیں رکھتا لیکن سکھ فار جسٹس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسے بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے سامنے سیاسی دباؤ اور عوامی رائے کی علامت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
منگل, مارچ 10, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

