پاکستان کی قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی مشرقی ایشیا کے 24 ممالک میں 15 ہزار 953 پاکستانی شہری قید کاٹ رہے ہیں، سب سے زیادہ 10 ہزار سے زائد پاکستانی شہری سعودی عرب کی جیلوں میں قید ہیں، پاکستان کے وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے بیرون ملک قیدیوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کیں، جن کے مطابق مشرق وسطیٰ اور جنوبی مشرقی ایشیا کے 24 ممالک میں 15 ہزار 953 شہری قید ہیں، وفاقی وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کی جانب سے پیش کی گئی تحریری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ سعودی عرب میں 10 ہزار 279 پاکستانی قید ہیں، وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں 3523، بحرین 581، اور قطرمیں 599 پاکستانی قید ہیں، انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا میں 459، عراق 81، عمان 252 اور کویت میں50 پاکستانی قید ہیں، وزیراسحٰق ڈار کے مطابق پاکستان کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہے، وزیرخارجہ کی پیش کردہ تفصیلات کے مطابق 21 ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے، خیال رہے سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی بڑی تعداد منشیات کے مقدمات میں قید ہے، پاکستان کے سعودی عرب میں تعینات سفیر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی جیلوں میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد منشیات کے جرائم میں ملوث ہے جبکہ وزارتِ خارجہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویز کے مطابق، سعودی جیلوں میں پاکستانی قیدی مختلف 18 جرائم جیسے کہ بارڈر سیکیورٹی، منی لانڈرنگ، سائبر کرائم، قتل، اسمگلنگ وغیرہ کے سلسلے میں قید ہیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے فروری 2019 میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان دورے کے دوران سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کی خصوصی درخواست کی تھی، دورے کے فوری بعد سعودی ولی عہد نے 2107 پاکستانی قیدیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا جس کی تصدیق پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے بھی کی تھی، واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ 2025ء کی ابتداء تک سعودی جیلوں میں 10,279 پاکستانی قیدی موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 5,341 رِیاض کے قریب اور 4,848 جِدّہ کے آس پاس مقید ہیں، گزشتہ چھ سال (2019–2024) میں سعودی حکومت نے کل 7208 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے جبکہ جولائی 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قیدیوں کی منتقلی کا معاہدہ فعال ہو گیا ہے، اس کی پہلی مرحلے میں 30 پاکستانی قیدیوں کو سعودی عرب سے واپس پاکستان منتقل کردیا گیا ہے اور تقریباً 419 پاکستانی قیدی ابھی منتقلی کے منتظر ہیں، سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی جیلوں میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد منشیات کے جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے قید ہے، ریاض میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے کی جانب سے بار بار پاکستانی کمیونٹی کو پیغامات جاری کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ یہاں رزق حلال کما کر اپنے گھر والوں کو بھیجیں، ویڈیو پیغامات میں انکو تلقین کی جاتی ہے کہ میزبان ملک کے قوانین کا احترام کریں تاکہ وہ مشکلات کا شکار نہ ہوں
ہفتہ, مارچ 14, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

