کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے منگل کو کہا کہ اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کررہا ہے، جس پر دہلی میں اسرائیلی سفیر نے پرینکا پر تنقید کی اور اب سوشل میڈیا نے اسرائیلی سفیر کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے، 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی غزہ پر جارحیت جاری ہے اور اب تک حکام کے مطابق 61 ہزار سے زاہد فلسطینوں کا قتل کیا جا چکا ہے جبکہ غزہ کی پٹی ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے اور وہاں موجود لاکھوں افراد کو قحط کی سی صورت حال کا سامنا ہے، پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے 60 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا ہے جن میں 18 ہزار چار سو 30 بچے شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ اس اسرائیل نے سینکڑوں افراد کو جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں، بھوکا مار دیا ہے اور لاکھوں کو بھوک سے مرنے کی دھمکی دے رہی ہے، پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ خاموشی اور بے عملی کے ذریعے ان جرائم کو جاری رکھنے دینا خود ایک جرم ہے یہ شرمناک ہے کہ انڈین حکومت اس وقت خاموش کھڑی ہے جب اسرائیل فلسطین کے عوام پر یہ تباہی نازل کر رہا ہے، ہندوستان کی ایک اہم اپوزیشن رہنما پرینکا گاندھی کا بیان سامنے آنے کے بعد نئی دہلی میں اسرائیل کے سفیر روون آزار نے پرینکا کے بیان کو شرمناک قرار دیا ہے، انہوں نے پرینکا کے ایکس پر بیان کے جواب میں لکھا کہ اسرائیل نے حماس کے 25 ہزار جنگجوؤں کو مارا ہے، انسانی جانوں کا یہ خوفناک نقصان حماس کی گھناؤنی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس میں وہ عام شہریوں کے پیچھے چھپتے ہیں، ان لوگوں پر فائرنگ کرتے ہیں جو انخلا یا امداد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور راکٹ داغتے ہیں، آزاد میڈیا اسرائیل کے اِن الزامات کو متعدد بار مسترد کرچکے ہیں اور عالمی برادری کے سامنے ایسے شواہد رکھے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے منصوبہ بندی کے تحت غزہ میں مصنوعی قحط پیدا کیا ہے اور عالمی امداد کو اپنے قبضے میں لیکر تقسیم کا پروگرام بنایا جس کے دوران کئی سو افراد اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے جبکہ سینکڑوں افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں غذائی قلت کا شکار ہوکر جاں بحق ہوئے ہیں۔
اسرائیل سفیر نے لکھا کہ ان کے ملک نے غزہ میں 20 لاکھ ٹن خوراک پہنچائی یہاں کوئی نسل کشی نہیں ہو رہی، حماس کے اعداد و شمار پر یقین نہ کریں، اسرائیل سفیر کے بیان پر سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا، انڈین نیشنل کانگریس کے ترجمان ادتیہ گرگ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں اسرائیلی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم کون ہوتے ہو غزہ میں خوراک پہنچانے والے؟ بس فلسطین اور غزہ سے دور رہو، دنیا بھر کے لوگ ان کا خیال رکھیں گے، تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے، پنکھڑی پھاٹک نے اسرائیلی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب کوئی بھی آپ کے جھوٹ پر یقین نہیں کرتا، اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے، تم بچوں کو قتل کرتے ہیں، تم بے سہارا لوگوں کو قتل کرتے ہیں، تم انہیں اس لئے قتل کرتے ہیں کیونکہ آپ ان کی زمین چاہتے ہو، انہوں نے اپنے ردعمل میں لکھا نیتن یاہو کا نام تاریخ میں ہٹلر کے ساتھ لکھا جائے گا اور ایک دن اس زندگی میں یا اگلی زندگی میں تمھیں اپنے جرائم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، ایک اور صارف نے لکھا کہ اسرائیل غاصب ریاست ہے اسکی بنیاد فلسطینیوں کی زمین پر قبضے پر رکھی گئی ہے، غزہ میں جو بھی ظلم ہورہا ہے اُسکا ایک اور ذمہ دار امریکہ بھی ہے جو اسرائیل کی مالی اور فوجی مدد کررہا ہے۔
جمعہ, مارچ 20, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

