کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے علاقے مومن آباد میں 3 منزلہ عمارت گرگئی، جس کے نتیجے میں ملبے سے 4 افراد کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا ہے، کراچی کے علاقے مومن آباد میں عمارت کے گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں 3 منزلہ عمارت کے ملبے میں کئی افراد کے دبے ہونے کی اطلاع ہے، عمارت گرنے کے بعد ریسکیو اہلکار جائے وقوع پر پہنچے، جب کہ پولیس بھی موقع پر پہنچ رہی ہے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے، گزشتہ روز کی طوفانی بارش کے بعد شہر میں سیلابی صورت حال رہی، اس دوران خستہ حال عمارتوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، پیپلزپارٹی کے 18 سالہ دور حکومت میں کراچی کی بتدریج تباہی کی کہانی سے تو ہر کوئی واقف ہے مگر اس کماؤ پوت شہر سے چلنے والے ملک کی مقتدرہ اس شہر کی تباہی میں برابر کی شریک ہے، سیاستدانوں نے ہی نہیں اس شہر کو سول اور ملٹری بیوروکریسی نے نوچ کھایا ہے، یاد رہے کہ جولائی کے مہینے میں کراچی میں لیاری علاقے بغدادی میں 5 منزلہ خستہ حال رہائشی عمارت زمیں بوس ہوگئی تھی، حادثے میں 10 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے تھے، وزیر بلدیات نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کر دی تھی، منگل کو کراچی میں ہونے والی شدید بارش کے بعد نکاسی آب نہ ہونے کی بناء پر شہر کے بیشتر حصوں میں پانی کھڑا ہوگیا اور شہریوں کو سیلاب جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا آگیا جس کے باعث زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، شہر کی کئی اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کررہی تھیں، جس کے باعث آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آئیں، متعدد شہری اپنی گاڑیاں سڑکوں پر چھوڑ کر پیدل گھر گئے جب کہ بعض اپنے گھروں تک نہیں پہنچ سکے، گذشتہ روز ہونے والی بارش کے نتیجے میں بارش کے نتیجے میں حادثات اور کرنٹ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے، جبکہ ماہرینِ موسمیات نے 22 اگست تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے مختلف علاقے نکاسی آب کا مناسب بندوسبت نہ ہونے کی وجہ سے شہری سیلاب کی زد میں آگئے، جس پر ممتاز شخصیات نے حکومت کی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
18 سالوں سے برسراقتدار پیپلزپارٹی نے ہر سال کی طرح اس بار بھی نااہلی ثابت کی جبکہ کراچی کے زبردستی مسلط میئر مرتضیٰ وہاب سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہے ہیں، نکاسی آب کے ناقص نظام سے لے کر بروقت شہری منصوبہ بندی کی کمی شہریوں کو بے بسی اور غصے سے بھر چکی ہے جبکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کرپشن میں ڈوبی پیپلزپارٹی قیادت کو سندھ پر مسلط رکھنے پر مصر پے، شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ سمیت بڑی شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں اور ایندھن ختم ہونے پر گاڑیاں راستے میں چھوڑ دی گئیں، سماجی کارکن ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے شہر کی قدرتی جغرافیائی ساخت اور حکومتی غفلت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لکھا کہ ہمارا کراچی ڈوب رہا ہے، ہمارا کراچی ڈوب رہا ہے، شدید بارش اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے میں عدم توجہی اس کی وجہ ہے، ٹھیکیدار کام کرتے ہیں اور پیسے بٹور لیتے ہیں جبکہ شہر کی جغرافیائی ساخت دریا کے ڈیلٹاؤں اور سیلابی میدانوں پر بنی ہے، جو فطری طور پر پانی جمع کرنے اور سب سے بڑھ کر اسے نکالنے کیلئے بنے ہیں، طلحہ انجم نے طنزیہ انداز میں سندھ حکومت کی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کراچی والو، گھبرانا نہیں، اجرک نمبر پلیٹ آپ کی گاڑی یا موٹر سائیکل کو ڈوبنے نہیں دے گی!
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

