کراچی میں بارش کے بعد بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا اور کئی علاقے 2 روز بعد بھی بجلی سے محروم ہیں، بارش کے بعد سے کراچی میں بجلی کا بریک ڈاؤن جاری ہے، کئی علاقے دو روز بعد بھی بجلی سے محروم ہیں، نارتھ ناظم آباد بلاک اے، گلستان جوہر بلاک 9، نانک واڑہ، یوسف گوٹھ اور رامسوامی میں تاحال بجلی بند ہے، ملیر سعود آباد، خداکی بستی، ابراہیم حیدری، شانتی نگر، اسٹیڈیم روڈ، کیماڑی اور اعظم بستی بھی بجلی غائب ہے، بجلی کی طویل بندش کے باعث شہریوں کی زندگیاں اجیرن ہوگئیں، گزشتہ روز کے الیکٹرک حکام نے شہر کے 94 فیصد سے زائد علاقوں کو بجلی کی فراہمی بحال کرنے کا دعویٰ کیا تھا، کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو مونس علوی نے کہا تھا کہ منگل کی شام 6 بجے تک شہر کے 94 فیصد سے زائد علاقوں کو بجلی کی فراہمی بحال کر دی ہے، انہوں نے کہا تھا کہ شہر میں 130 سے 170 ملی میٹر تک بارش رپورٹ ہوئی جس کے باعث کے الیکٹرک فیلڈ اسٹاف کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں بارش سے اربن فلڈنگ ہوئی جس پر معذرت خواہ ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر بٹن دبا کر سارا پانی نہیں نکال سکتے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش ہوئی جس کے نتیجے میں اربن فلڈنگ ہوئی اتنی بارش کے بعد بٹن دباکر سارا پانی نہیں نکال سکتے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں بارش سے اربن فلڈنگ کی صورتحال نہیں ہونی چاہیے تھی اس کیلئے معذرت خواہ ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ لوگوں سے التجا ہے کہ حکومت کی بات سنا کریں، ہم نے عوام سے کہا کہ بارش میں جہاں ہیں، وہیں بیٹھے رہیں مگر لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ساری شاہراہ فیصل جام تھی، ہمیں روڈ بند کرکے لوگوں کو روکنا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا جس پر میں شرمندہ ہوں، وزیراعلیٰ نے طوفانی بارش کی پیشگوئی بروقت آگاہ نہ کیے جانے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو بارش شروع ہوئی تو وہ میئر کراچی، چیف سیکریٹری، ایم ڈی واٹر کارپوریشن سمیت دیگر حکام کے ساتھ اجلاس میں مصروف تھے تاہم اس وقت طوفانی بارش کے حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
دوسری طرف کراچی سمیت سندھ کے بعض علاقوں میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے شہری سیلاب، پانی جمع ہونے اور روزمرہ زندگی میں خلل کا خدشہ ہے، حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں کراچی سمیت سندھ کے بعض علاقوں میں 50 سے 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے جس سے شہری سیلاب، پانی جمع ہونا اور روزمرہ زندگی میں خلل کا خدشہ ہے، زوم ارتھ ویب سائٹ کے مطابق سندھ کے اوپر ایک شدید سسٹم بن رہا ہے جو بدھ کی رات کے بعد کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز کو متاثر کرے گا، یہ سسٹم صبح تک سمندر کی طرف منتقل ہونے کا امکان ہے اور نچلے سندھ میں شدید بارش کا سبب بن سکتا ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان نے کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ، بدین، میرپورخاص اور سکھر سمیت خطرے والے علاقوں کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ممکنہ خطرات کو کم کرنے کیلئے سرکاری اپ ڈیٹس پر گہری نظر رکھیں۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

