اسرائیل کی بری اور فضائی افواج نے غزہ شہر کے بعض حصوں پر شدید بمباری کی ہے، غزہ شہر کے رہائشیوں نے شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں میں مسلسل ہونے والے دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، یہ حملے اسرائیل کے اس خطے کے سب سے بڑے شہری علاقے پر قبضے کے منصوبے کے سلسلے کی کڑی ہیں جس نے وہاں رہنے والے تقریباً 10 لاکھ فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے، اسرائیلی افواج اس دوران مزید شمال میں جبالیہ کے پناہ گزین کیمپوں کی عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کر رہی ہیں، دوسری جانب حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں 64 افراد شہید اور تقریباً تین سو زخمی ہوئے ہیں، وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جارحانہ مہم کے آغاز کے بعد سے شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 62,686 ہوگئی ہے جب کہ ایک لاکھ 58 ہزار کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کو بڑھاوا دینے پر اُن کی حکومت پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید کو غیرضروری قرار دیا ہے، اس کارروائی میں اسرائیل نے تقریباً 60,000 ریزرو فوجیوں کو استعمال کیا ہے، اگرچہ یہ حملے پوری شدت سے ابھی شروع نہیں ہوئے لیکن اسرائیلی فوج غزہ شہر پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اتوار کی صبح تک فضائی حملوں میں زیتون اور شجاعیہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ صبرہ اور اس کے اطراف میں ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی، اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق مطابق گذشتہ چند دنوں میں فوجی دوبارہ جبالیہ کے علاقے میں واپس آئے ہیں جس سے لڑائی کو مزید علاقوں تک وسعت دینے اور حماس کے مسلح افراد کو واپس آکر ان علاقوں میں کارروائی سے روکنے سے مدد ملی ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ اس کے ایک اہلکار کو اسرائیلی فوج نے رہا کر دیا ہے جسے 21 جولائی سے غزہ میں حراست میں رکھا گیا تھا، ادارے نے اہلکار کی شناخت یا گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جنگ کے باعث غاصب ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کو اسرائیل کے اندر بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کی جانب سے ان پر دباؤ ہے، جو چاہتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کیے جائیں تاکہ ان کے عزیز و اقارب کو گھر واپس لایا جا سکے، غزہ میں اب بھی موجود 50 یرغمالیوں میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے، اسرائیلی وزیرِ اعظم نے گزشتہ ماہ حماس کے ساتھ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر بالواسطہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پورے غزہ پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا، ثالثی کرنے والے قطر اور مصر اس حملے کو روکنے کیلئے معاہدہ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھوں نے 60 دن کی جنگ بندی اور تقریباً نصف یرغمالیوں کی رہائی کی نئی تجویز پیش کی ہے، اس تجویز پر حماس نے رضامندی کا اظہار کیا ہے تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب جزوی معاہدہ قبول نہیں کریں گے بلکہ ایک جامع معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے، اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار ڈالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے پر اتفاق نہ کیا تو غزہ شہر کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا جبکہ اس غیرانسانی بیان پر عالمی برادری نے نوٹس نہیں لیا۔
جمعرات, مارچ 5, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

