اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن نے منگل کو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے اور اعلیٰ اسرائیلی عہدیداروں بشمول وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ان اعمال کی اشتعال انگیزی میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ اسرائیل نے اِن الزامات شرمناک قرار دیا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں قتل عام کی شدت، امداد کی رکاوٹوں، جبری بے گھر ہونے اور زرخیز زمینیوں اور ہسپتالوں کی تباہی کی مثالیں پیش کی گئی ہیں تاکہ نسل کشی کے اس نتیجے کی تائید کی جاسکے، اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا یہ نتیجہ انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں اور اداروں سے مکمل طور پر ہم آھنگ ہے جنہوں نے متعدد مرتبہ اپنی رپورٹس میں غاصب اسرائیلی حکومت کو انسانیت کے خلاف مجرم قرار دیا ہے، جبکہ عالمی فوجداری عدالت نے غاصب ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کا گرفتاری وارنٹ جاری کررکھا ہے، اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ نوی پیلے نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی ہورہی ہے، جو خود مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کی ہے جبکہ انھوں نے سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج ہیں، نوی پیلے نے کہا کہ جرائم کی ذمہ داری اسرائیلی حکام کے اعلیٰ عہدوں پر ہے جنہوں نے تقریباً دو سال سے نسل کشی کی مہم کی منصوبہ بندی اور سرپرستی کی ہے، جس کا خاص مقصد غزہ میں فلسطینی گروہ کو ختم کرنا ہے، اسرائیلی سفیر نے نسل کشی کی رپورٹ کو شرمناک قرار دیا، جنیوا میں اقوام متحدہ کیلئے اسرائیل کے سفیر ڈینیئل میرون نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کو شرمناک قرار دیا، اسرائیل اس تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے، خیال رہے کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن سے تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا 72 صفحات پر مشتمل قانونی تجزیہ اب تک کا سب سے مضبوط اقوام متحدہ کا نتیجہ ہے، اقوام متحدہ نے ابھی تک نسل کشی کی اصطلاح استعمال نہیں کی ہے لیکن اس پر اس کے استعمال کیلئے بڑھتا ہوا دباؤ ہے، اسرائیل عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہے، غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران 64,000 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، 1948ء کا اقوام متحدہ نسل کشی کے کنونشن جو نازی جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کے بڑے پیمانے پر قتل کے بعد اپنایا گیا، نسل کشی کی تعریف اس طرح کرتا ہے کہ یہ جرائم ایک قومی، نسلی، یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کیے جاتے ہیں، نسل کشی کے طور پر شمار ہونے کیلئے کم از کم پانچ میں سے ایک عمل کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے، اقوام متحدہ کی کمیشن نے پایا کہ اسرائیل نے ان میں سے چار جرائم کا ارتکاب کیا ہے قتل جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانا، جان بوجھ کر ایسی زندگی کی حالتیں پیدا کرنا جو فلسطینیوں کی مکمل یا جزوی تباہی کا باعث بنیں اور ایسے اقدامات کرنا جو پیدائشی عمل کو روکنے کے ارادے سے ہوں، اقوام متحدہ کے کمیشن نے شواہد کے طور پر متاثرین، گواہوں، ڈاکٹروں کے ساتھ انٹرویوز، تصدیق شدہ کھلی ذرائع کے دستاویزات اور سیٹلائٹ امیجری کے تجزیے کا حوالہ دیا جو جنگ کے آغاز سے جمع کیے گئے تھے، کمیشن نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ نیتن یاہو اور دیگر عہدیداروں کے بیانات نسل کشی کے ارادے کا براہ راست ثبوت ہیں، کمیشن نے ایک خط کا حوالہ دیا جو غاصب یہودی ریاست کے وزیراعظم نے نومبر 2023ء میں اسرائیلی فوجیوں کیلئے لکھا جس میں غزہ کی کارروائی کا موازنہ اس بات سے کیا جو کمیشن نے عبرانی بائبل میں مکمل تباہی کی مقدس جنگ کے طور پر بیان کیا ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

