ایران کے صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کی پالیسیاں کو پورے مغربی ایشیا کیلئے بڑی تبدیلی کا باعث قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران کو دوبارہ فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ممکنہ حملہ آوروں کا مقابلہ بھرپور طاقت سے کرے گا، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے امن قائم کرنے کیلئے قدم اٹھایا ہے لیکن جس راستے پر وہ گامزن ہیں وہ پورے خطے میں آگ لگا دے گا، مسعود پزشکیاں نے جمعہ کو این بی سی نیوز کے ساتھ ایک طویل انٹرویو میں مزید کہا ٹرمپ دونوں ادوار کی انتظامیہ کے تحت امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی مداخلت کو بڑھایا ہے، جس میں علاقائی ممالک جیسے ایران اور یمن کے خلاف مکمل اور عارضی براہ راست جارحیت شامل ہے، پزشکیاں کے بیانات نے واشنگٹن کی اسرائیلی حکومت کیلئے بڑے پیمانے پر فوجی مدد اور انٹیلی جنس فراہمی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حمایت کی وجہ سے تل ابیب اپنے توسیع پسندانہ منصوبے بڑھانے اور غزہ کی پٹی، شام، لبنان، یمن، ایران، اور حال ہی میں قطر کے خلاف مہلک جارحیت کرسکا، ایرانی صدر نے اسلامی جمہوریہ کی جانب سے جون میں اسرائیلی حکومت اور واشنگٹن کی غیرمحرک اور غیر قانونی جنگ کے خلاف جوابی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہم پر حملہ کرے گا، ہم ان کو سب سے مضبوط جواب دینے کی پوری کوشش کریں گے، انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی اس نے کوئی جنگ شروع کی ہے یا ارادہ کیا ہے لیکن وہ جنگ کے اعلانات سے بھی خوفزدہ نہیں ہے، ہم یقیناً روزانہ کی بنیاد پر اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کررہے ہیں تاکہ کوئی بھی ہم پر حملہ نہ کر سکے، 13 سے 25 جون تک جاری رہنے والی 12 روزہ جنگ میں ایران کی مسلح افواج نے سو سے زائد بیلسٹک میزائلوں، بشمول ہائپر سونک اقسام، اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے عزم کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی اور منہ توڑ جوابی حملے کیے، ایران نے اس دوران اسرائیلی فوجی، جوہری، اور صنعتی مقامات کو نشانہ بنایا، ساتھ ہی قطر میں واقع امریکہ کے سب سے اہم علاقائی ہوائی اڈے العدید پر شدید نقصان پہنچانے والے حملے کئے ہیں، پیزشکیان نے زور دیا ہم موت اور شہادت سے نہیں ڈرتے۔
صدر نے ایران کے پرامن جوہری توانائی کے پروگرام کے بارے میں امریکہ کے الزامات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر حقیقت کی وضاحت نہیں ہوتی، یہ طریقہ کار موزوں نہیں ہے، جوہری تنصیبات کی حقیقی جانچ پڑتال سے مبینہ دعووں کی تصدیق کی جاسکے، تہران نے حال ہی میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ ایجنسی کے ساتھ تعاون دوبارہ شروع کیا جا سکے، جو اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ناممکن ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے نگرانی کے ادارے کیلئے اپنی سابقہ جانچ پڑتال جاری رکھنا ممکن نہ رہا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 2015ء کے جوہری معاہدے کے تحت ایران اسنیب بیک میکنزم کے تحت عالمی پابندیوں میں نرمی کی مدت میں توسیع کی قرارداد منظور نہیں ہوسکی، یہ قرارداد چین اور روس نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی جسے 15 رکنی کونسل میں صرف چار ووٹوں کی حمایت ملی، نو ممالک نے اس کی مخالفت کی جبکہ دو نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، قرارداد میں جوہری معاہدے مشترکہ جامع عملی منصوبہ عمل اور اس کی توثیقی قرارداد 2231 (2015) کو آئندہ اپریل تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی، قرارداد کو منظوری نہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ معاہدے کے تحت ایران پر جو پابندیاں ختم کی گئی تھیں وہ آج شام سے دوبارہ نافذ ہو جائیں گی، یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اس معاہدے کے دستخط کنندگان میں شامل فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایک ماہ قبل سلامتی کونسل کو مطلع کیا تھا کہ ایران نے جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سطح پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور معاہدے کی شرائط کی متعدد خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے۔ اس اطلاع کے بعد پابندیوں کی بحالی کے طریقہ کار اسنیپ بیک میکانزم کو متحرک کر دیا گیا۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

