پاکستان کے سورش زدہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کے روز ایف سی کے ہیڈ کوارٹر کے نزدیک ہونے والے حملے میں دس افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ اس میں اضافے کا امکان ہے، جس میں فورسز کے اہلکار شامل ہیں جبکہ درجنوں زخمیوں کو ابتک ہسپتالوں میں لایا جاچکا ہے جن میں سے متعدد ذخمی تشویشانک حالت میں بتائے گئے ہیں، صوبائی وزیرِ صحت بخت کاکڑ نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے کے بعد سے اب تک کم از کم 10 افراد کی لاشیں ہسپتال پہنچائی جا چکی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجہ سے 24 زخمیوں کو بھی طبی امداد کیلئے ٹراما سینڑ منتقل کیا گیا ہے، وزیرِ صحت کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں، حملے کے بعد شہر کے علاقے ماڈل ٹاؤن سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا اور فائرنگ کی آوازیں بھی آئیں، کوئٹہ شہر کے علاقے شہباز ٹاؤن کے مقامی شخص بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ انھیں محسوس ہوا جیسے یہ ان کے قریب ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد فائرنگ کی بھی آوازیں بھی سنائی دی، حملے کے دوران دھماکے سے گاریوں کے شیشے سڑک پر بکھرے پڑے تھے، سرکاری ذرائع کے مطابق خودکش حملے میں 10 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوگئے، واقعے میں خودکش حملہ آور سمیت 6 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے، جنھیں سکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں، اسلامی تاریخ میں خوارج انہیں کہا جاتا ہے جنھوں نے خلیفہ راشد حضرت علیؑ کے خلاف جنگ لڑی اور بعد ازاں انہیں مسجد میں نماز پڑھنے کے دوران شہید کردیا، حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار باغیوں کو ہلاک کردیا ہے، وزیرِاعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کہ ان بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کا حوصلہ پست نہیں کیا جا کرسکتا اور عوام اور سکیورٹی اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ایک پولیس ذریعہ کے مطابق کوئٹہ میں واقع حالی روڈ پر واقع ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر سفید سوزوکی وین کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔
خودکش حملہ آور کے ساتھ آنے والے دہشت گردوں نے دھماکے کے بعد ایف سی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، حملے میں 2 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 10 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے، جنہیں سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے، جہاں 5 زخمیوں کی حالت تشویشنا ک ہے، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کی فوٹیج میں وہ لمحہ قید ہوگیا جب زوردار دھماکے نے سڑک کو ہلا کر رکھ دیا، دھماکے اتنا شدید تھا کہ اس کی شدت پشین اسٹاپ، ماڈل ٹاؤن، شہباز ٹاؤن اور قرب و جوار کے دیگر علاقوں میں محسوس کی گئی جبکہ اس کی آواز کوئٹہ میں دور دور تک سنی گئی، دھماکے کی وجہ سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، دھماکے کے بعد صوبائی انتظامیہ نے کوٸٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نفاذ کردی ہے اور تمام عملے کو ہسپتالوں میں موجود رہنے کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں بھارتی پراکسی کے دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پذیرائی اور حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں اور شہریوں کیلئے جلد از جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

