خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت 11 فوجی جوان شہید ہوگئے، کارروائی کے دوران 19 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 7 اور 8 اکتوبر کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی گئی جس میں ہندوستان اسپانسر 19 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، پاکستانی فوج اِن دہشت گردوں کیلئے فتنہ الخوارج کی اصطلاح استعمال کرتی ہے، خوارج فتنہ مولا علیؑ کے دورِ خلافت میں اُٹھا تھا، خوارج کی دہشت گرد کارروائیوں کے بعد مولا علیؑ نے اِن کے خلاف جنگ لڑی اور فتح حاصل کرلی، پاکستانی فوج تحریک طالبان پاکستان، داعش اور دیگر مذہبی شدت پسندوں کو فتنہ الخوارج قرار دیتی ہے، واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی خاموش حمایت حاصل ہے اور پاکستانی فوج کے مطابق افغانستان میں پاکستانی طالبان کی کمین گاہیں موجود ہیں افغان طالبان نے متعدد مرتبہ الزام لگایا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے افغانستان کے شہری علاقوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں اُن کے شہری ہلاک ہوئے، پاکستان نے متعدد بار الزام لگایا ہے کہ افغان طالبان نے دہشت گردی کو امریکی اسلحہ فراہم کیا ہے جو امریکی فوج افغانستان میں چھوڑ کر بھاگ نکلی تھی، آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے ضلع راولپنڈی کے رہائشی 39 سالہ لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف اور ان کے سیکنڈ ان کمانڈ ضلع راولپنڈی کے رہائشی 33 سالہ میجر طیب راحت بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، جھڑپ میں دیگر 9 جوان بھی شہید ہوگئے۔
پاکستانی فوج کے شہادت پانے والے 9 بہادر سپاہیوں میں ضلع خیبر کے رہائشی 38 سالہ نائیک صوبیدار اعظم گل، ضلع کرم کے رہائشی 35 سالہ نائیک عادل حسین، ضلع ٹانک کے رہائشی 34 سالہ نائیک گل عامر، ضلع مردان کے رہائشی 31 سالہ لانس نائیک شیر خان، ضلع مانسہرہ کے رہائشی 32 سالہ لانس نائک تالش فراز، ضلع کرم کے رہائشی 32 سالہ لانس نائک ارشد حسین، ضلع مالاکنڈ کے رہائشی 28 سالہ سپاہی طفیل خان، ضلع صوابی کے رہائشی 23 سالہ سپاہی عاقِب علی اور ضلع ٹانک کے رہائشی 24 سالہ سپاہی محمد زاہد شامل ہیں، آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کسی بھی باقی ہندوستانی حمایت یافتہ خوارج کو ختم کرنے کیلئے کلیننگ آپریشن جاری ہے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے ہندوستانی حمایتی دہشت گردی کے ناسور کو مٹانے کے عزم پر قائم ہیں، ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں اسی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، مارچ 2025 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق دہشت گردوں نے فورسز پر 105 حملے کیے، جس میں 73 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ بلوچستان میں یکم جنوری 2025 سے 22 مئی 2025 تک سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً 37,411 آپریشنز ہوئے اس دوران 232 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 59 جوان شہید ہوئے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

