پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان عوام کی مدد جاری رکھے گا تاہم قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اتوار کے روز ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی حدود سے انڈیا کے حمایت یافتہ شدت پسندوں کے حملے ایک مسلمہ حقیقت ہے جن کی تصدیق بارہا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں ہوئی ہے، صدر زرداری نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں سرگرم پاکستان مخالف شدت پسند عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کرے، دوسری طرف افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج میں بعض افراد افغانستان کی بہتر ہوتی سکیورٹی صورتحال اور اس کی ترقی سے خوش نہیں ہے، اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مخصوص گروپ اب افغانستان کے خلاف سازشیں رچا رہا ہے، طالبان ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے ایکس پر ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس کا متن جاری کیا گیا ہے، اس متن کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ معلومات کی بنیاد پر ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج کی اکثریت، سیاست دان، علمائے کرام اور عوامی اس مخصوص افراد کے افغانستان مخالف ایجنڈے سے متفق نہیں ہیں، اُنھوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج کے اندر موجود مخصوص افراد اپنے سلسلہ وار اقدامات کے ذریعے افغانستان میں انتشار پھیلا رہے ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ یہ گروپ عالمی پلیٹ فارمز پر طالبان حکومت کا منفی تاثر اُبھارنے اور غلط معلومات پھیلانے میں سرگرم رہتا ہے، واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج ماضی میں طالبان حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے، پاکستان کے سکیورٹی قیادت ملک میں ہونے والے بیشتر حملوں کا ذمہ دار تحریکِ طالبان پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے۔ تاہم افغان طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور افغانستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر آصف زرداری نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کی سرپرستی میں کام کرنے والے شدت پسند عناصر علاقائی امن و استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، صدر زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے اور اس کا بوجھ کسی ایک ملک پر نہیں ڈالا جا سکتا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی تاہم افغان شہریوں کی باوقار واپسی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور پائیدار امن کیلئے ضروری ہے، صدر زرداری نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان افغان عوام کی تعلیمی اور انسانی بنیادوں پر مدد جاری رکھے گا تاہم پاکستان کی قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ برادرانہ تعلقات کی بنیاد باہمی احترام، سکیورٹی تعاون اور علاقائی امن کیلئے مشترکہ عزم پر ہونی چاہیے، انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گی اور اس بات پر زور دیا کہ صرف مشترکہ اور عملی اقدامات ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

