ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ غزہ میں جنگ بندی قائم ہے مگر صہیونی توسیع پسندی اور اسرائیل کے پاس موجود تباہی پھیلانے والے ہتھیار اب بھی خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کی بنیادی وجوہات ہیں، غیر وابستہ تحریک ایک بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں کمپالا سمٹ سے قبل ایک جائزہ کے عنوان سے جاری نوٹ میں عراقچی نے ایران کے اصولی اور مستقل مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تہران فلسطینی عوام کی جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا اور فلسطینیوں کی جبری پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جو ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتی ہیں، عراقچی نے امریکی ثالثی میں طے پانے والی غزہ جنگ بندی کو امن کیلئے موقع قرار دیا جو ایک نسل کشی کی مہم کے بعد سامنے آئی، جس میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، انہوں نے کہا کہ صہیونی توسیع پسندی اور اسرائیل کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی خطے کے عدم استحکام اور بدامنی کی بنیاد ہے، عراقچی ان دنوں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں موجود ہیں، جہاں 15 اور 16 اکتوبر کو غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے رابطہ بیورو کا 19واں وزارتی اجلاس ہوگا جسکی وہ صدارت کررہے ہیں، وزیرِ خارجہ نے ایک زیادہ منصفانہ اور کثیرقطبی عالمی نظام کیلئے ایران کے وژن کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، عراقچی نے لکھا ایران کیلئے یہ غیر وابستہ تحریک انصاف، مساوات اور عالمی ادارہ جاتی اصلاحات کے حق میں ہماری آواز کو مضبوط بناتی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمپالا سمٹ مشترکہ مفادات اور چیلنجز کی بنیاد پر عملی یکجہتی کو مزید مستحکم کرے گی، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا ایران ایک حقیقی کثیرالقطبی عالمی نظام کے قیام کیلئے پُرعزم ہے ایسا نظام جس میں وسائل کی منصفانہ طور پر تقسیم ہو، جارحیت کو مؤثر طور پر روکا جاسکے اور خودمختاری کو عالمی تعلقات کی اساس کے طور پر تسلیم کیا جائے، عراقچی نے غیر وابستہ تحریک کو قومی خودمختاری اور سامراجی ڈھانچوں کے خلاف اصولی مزاحمت کی ایک زندہ علامت قرار دیا، جو ایران کی خارجہ پالیسی وقار، خودداری اور گلوبل ساوتھ کے ساتھ یکجہتی سے مطابقت رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کی غیر وابستہ تحریک کے ساتھ وابستگی مزید گہری ہوئی کیونکہ ملک کے انقلابی نظریات اس تحریک کے سامراج مخالف اور خودمختاری پر مبنی اصولوں سے ہم آہنگ تھے۔
عراقچی نے مزید لکھا کہ ایران نے اس کے بعد ایک فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس کی ایک مثال 2012ء کی تہران سمٹ ہے، جو جوہری تخفیفِ اسلحہ، فلسطین، اور سامراج کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف اجتماعی مزاحمت جیسے موضوعات پر سنجیدہ مذاکرات کے فروغ کیلئے وقف تھی، اپنے نوٹ کے ایک اور حصے میں عراقچی نے پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دیا جو گلوبل ساؤتھ کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہیں تاہم ان ہی پابندیوں نے جنوبی ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنا کر اُن میں مزاحمتی صلاحیت بھی پیدا کی ہے، انہوں نے ابھرتے ہوئے ڈھانچوں، خصوصاً بریکس گروپ کو مغربی تسلط کے چیلنج کے طور پر اجاگر کیا، عراقچی نے کہا اس پیچیدہ عالمی ماحول میں غیر وابستہ تحریک کی اخلاقی اتھارٹی تسلط مخالف اصولوں پر قائم ہے ایک مضبوط اور مربوط اجتماعی دفاع کا موقع فراہم کرتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ غیر وابستہ تحریک کی پائیداری کی بنیاد اس کی اُس نمائندگی میں ہے جو دنیا کی آبادی اور اخلاقی اکثریت کی ترجمان ہے اور جو جی سیون جیسے مخصوص اور محدود گروہوں کے مقابل ایک جمہوری توازن فراہم کرتی ہے، وزیرِ خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کمپالا اجلاس میں تعمیری کثیرالجہتی تعاون کے خلوص نیت پر مبنی عزم کے ساتھ شریک ہوا ہے، جس کا مقصد ایسے عملی نتائج حاصل کرنا ہے جو عالمی جنوب کی صلاحیت میں اضافہ کریں بغیر کسی غیر حقیقی انقلابی وعدوں کے۔
جمعہ, مارچ 13, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

