پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت اپریل 2022 میں ختم ہوئی تھی، اس حکومت کے خاتمے کے دو مہینے بعد جب اس دور کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اکنامک سروے پیش کیا تھا تو اس میں پاکستان کی معاشی شرح نمو چھ فیصد دکھائی گئی تھی، تاہم اگلے مالی سال میں یہ شرح نمو 0.3 فیصد رہی، سنہ 2024 میں 2.5 فیصد جبکہ تیس جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں یہ معاشی گروتھ قریب تین فیصد رہی تھی، مالی سال 2022 کے اختتام تک پاکستان کی برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر کی تھیں جو جون 2025 تک وہیں کھڑی ہیں یعنی اُن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، ایک بڑا چیلنج یہ رہا ہے کہ پاکستان کی صنعتی شرح نمو بھی خراب رہی ہے۔ مالی سال 2022 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 11.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ 2023 میں اس پیداوار میں 10.3 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی، مالی سال 2024 میں اس میں 0.03 فیصد کی کمی ہوئی اور تیس جون 2025 کو ختم ہونے والی مالی سال میں اس کی پیداوار 0.74 فیصد تھی، پاکستان میں معاشی شرح، برآمدات اور بڑی صنعتوں کی پیداوار کے یہ اعداد و شمار حکومتی دستاویز اکنامک سروے اور وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ہیں، حقیقی صورتحال مزید بدتر محسوس ہوتی ہے، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے صنعتوں کی بحالی اور برآمدات میں اضافے کیلئے آٹھ ورکنگ گروپس بنائے ہیں جن میں سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے افراد بھی شامل ہیں، وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ورکنگ گروپس صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے سے متعلق سفارشات مرتب کریں گے۔
پاکستان میں عمران خان کی حکومت ختم کئے جانے کے بعد سے غربت اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، عالمی بینک کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر چوتھا شخص غربت کا شکار ہے، یعنی ملک کی آبادی کا پچیس فیصد سے زائد حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اس کے مطابق پاکستان کے چھ کروڑ لوگ معاشی مسائل، مہنگائی اور کمزور معاشی پالیسیوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں، پاکستان میں صنعتی شعبے سے منسلک افراد کے مطابق اس وقت یہ شعبہ بے پناہ مسائل کا شکار ہے، فیڈریشن آف پاکستان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کے مطابق زیادہ کاروباری لاگت اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے پیچیدہ نظام اور ٹیکسوں کی بلند شرح کی وجہ سے صعنتی شعبہ اس وقت بہت زیادہ مسائل کا شکار ہے، ایک طرف مقامی صعنتکار مسائل کا شکار ہیں تو دوسری طرف بیرونی سرمایہ کار بھی پاکستان آنے سے کتراتے ہیں اور وہ ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے، پاکستان میں گذشتہ چند برسوں میں کمزور معاشی شرح نمو اور منفی صعنتی ترقی اور برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں، حکومت کے پاس اتنی مالیاتی سپیس نہیں ہے کہ وہ صعنتی شعبوں کو کوئی ریلیف فراہم کر سکے کیونکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں موجود ہے اور اس کی شرائط کو تسلیم کرنا پڑتا ہے، ماہرین کے مطابق ایک بڑی وجہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہے جو زیادہ معاشی ترقی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے، پاکستان میں ڈالر یعنی غیر ملکی زر مبادلے کی کمی کی وجہ سے ملک کو بیرونی ادائیگیوں میں عدم توازن کا شکار ہونا پڑتا ہے، ماہرین معیشت نے اس کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کو بھی قرار دیا ہے جس کی وجہ سے معاشی شرح نمو حاصل نہیں کی جا سکتی،
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

