پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی اور نچلی سطح کے تعلقات کے دوران بھی دونوں ملکوں کے درمیان بلواسطہ تجارتی حجم دس ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے جوکہ ہندوستان کے حق میں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان محدود جنگ بند کروانے کا دعویٰ تو ٹرمپ کرتے ہیں مگر ہندوستان اس بات کو تسلیم نہیں کرتا، حالیہ برسوں میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں نے سرحدوں کے قریب رہائشیوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، جنگ اور بار بار کی سرحد پار گولہ باری نے ان کیلئے زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے، تازہ تنازعے نے مقامی آبادی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور دونوں جانب سرحد پار تجارت سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار چھین لیا ہے، جن تاجروں نے بنیادی ڈھانچے اور گوداموں میں سرمایہ کاری کی تھی، وہ اب بھاری قرضوں، رہن اور بیروزگاری کا شکار ہیں، بہت سے لوگوں کو اپنے بڑھتے ہوئے واجبات کو قابو میں رکھنے کیلئے اپنی جائیدادیں فروخت کرنا پڑیں، ایک مزدور نے بتایا کہ میں عموماً قصبے سے قصبے اور شہر سے شہر روزگار کی تلاش میں جاتا ہوں، پہلے جب سرحد کھلی تھی اور تجارت جاری تھی تو میں اپنے گاؤں کے قریب ہی دہاڑی پر کام کر لیتا تھا اور شام تک گھر واپس آ جاتا تھا، اب چھوٹے بچوں کو گھر پر چھوڑنا اور طویل عرصے کیلئے دور رہنا بہت مشکل ہے مگر میرے پاس کوئی چارہ نہیں۔
محتاط تخمینوں کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں دس ہزاروں افراد اپنی ملازمتیں کھو بیٹھے ہیں، تعلیمی ادارے بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، کئی طلبہ اور اساتذہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں بھارت اور پاکستان نے لائن آف کنٹرول اور سرحدی علاقوں میں متعدد بڑے تصادم کیے۔ حالیہ واقعہ زیادہ مہلک ثابت ہوا جب کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت ہوئی، اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان بڑے سفارتی تصادم کو جنم دیا اور کئی تاریخی معاہدے معطل کردیئے گئے، ہندوستان نے بین الاقوامی ضامنوں کے تحت سندھ طاس معاہدہ بھی یکطرفہ طور پر معطل کیا جوکہ ہندوستان کے عالمی کردار پر بھروسے کو کم کررہی ہے، پنجاب کے اٹاری، واہگہ اور کشمیر کے اوڑی جیسے سرحدی قصبے جو کبھی تجارت کے گنجان مراکز تھے، اب سنسان ہو چکے ہیں اور مقامی آبادی ناقابلِ تصور مشکلات سے دوچار ہے۔
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اندازوں کے مطابق تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کی تجارت اب بھی جاری ہے لیکن وہ تیسرے ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سنگاپور کے ذریعے کی جارہی ہے، تاہم براہِ راست تجارت اب بھی معطل ہے، جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو شدید معاشی دباؤ اور روزگار کے بحران کا سامنا ہے، سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ روزگار کے مواقع ختم ہونے، خاندانی دباؤ، قرضوں کے بوجھ اور کام کی کمی نے کئی افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف مائل کر دیا ہے، یہ جاری تعطل علاقے کے مکینوں کی معاشی حالت پر منفی اثر ڈال رہا ہے، آمدنی کے ذرائع غیر یقینی کا شکار ہیں، بار بار کی نقل مکانی اور جائیدادوں کی تباہی نے لوگوں کو شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، واضح رہے کہ مئی 2025 میں کشمیر کے ایک سیاحتی مقام پر دہشت گرد حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان نے تمام براہِ راست تجارت معطل کردی، جس سے دوطرفہ باضابطہ تجارت تقریباً مکمل طور پر ختم ہوگئی۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

