پاکستان میں منگل کے روز مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالت کی عمارت کے باہر ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے، اب تک 12 افراد جاں بحق اور تقریباً 27 زخمی ہوئے ہیں، عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکہ بظاہر عدالت کے احاطے کے دروازے کے قریب ہوا، مقامی وکیل رستم ملک نے اے ایف پی کو بتایا جب میں نے اپنی گاڑی پارک کی اور احاطے میں داخل ہوا تو ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، پورا منظر افراتفری کا شکار تھا، وکلا اور لوگ احاطے کے اندر بھاگ رہے تھے، میں نے دروازے کے قریب دو لاشیں دیکھی اور کئی گاڑیاں جل رہی تھیں، کے وفاقی وزیر داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت کی عمارتوں کے باہر خودکش دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہو گئے، ابھی تک کسی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ تحقیقاتی اداروں نے اس دھماکے کے متعلق حتمی رائے فائل نہیں کی ہے، بعض ماہرین کی رائے ہے کہ دھماکہ پلانٹڈ تھا، واقعے کی جگہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا دوپہر 12 بج کر 39 منٹ پر ضلعی عدالت اسلام آباد کے مقام پر خودکش حملہ کیا گیا اب تک 12 افراد شہید اور تقریباً 27 زخمی ہوئے ہیں، محسن نقوی کے مطابق حملہ آور نے عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام ہونے پر اُس نے پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کسی مخصوص گروہ پر الزام عائد کرنے سے گریز کیا تاہم کہا کہ حکام حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے سے عدالت کے باہر کھڑی کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں جبکہ دھماکے کی آواز کئی میل دور تک سنی گئی، یہ علاقہ عام طور پر سینکڑوں افراد سے بھرا رہتا ہے جو مقدمات کی سماعت کیلئے آتے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق زیادہ تر ہلاک اور زخمی ہونے والے وہ افراد ہیں جو وہاں سے گزر رہے تھے یا عدالت کی کارروائی میں شریک ہونے آئے تھے، اسلام آباد پولیس نے بتایا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، دھماکے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروہ نے قبول نہیں کی، اس سے قبل منگل کی صبح پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ انہوں نے فوج کے زیرِ انتظام کالج پر شدت پسندوں کے حملے کو ناکام بنایا ہے جہاں ایک خودکش بمبار اور پانچ دیگر حملہ آوروں نے رات کے وقت کیڈٹس کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تھی، حکام نے اس حملے کا الزام تحریکِ طالبان پاکستان پر عائد کیا ہے جو افغان طالبان سے علیحدہ مگر ان کی اتحادی تنظیم ہے، تاہم اس گروہ نے پیر کی شام ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی، یہ کیڈٹ کالج جنوبی وزیرستان کے شہر وانا میں واقع ہے، جو خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے میں افغانستان کے قریب ہے، یہ خطہ ماضی میں تحریکِ طالبان پاکستان، القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ کابل کے حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں لیکن اسلام آباد تک اس جنگ کو لانا کابل سے ایک پیغام ہے، جس کا بھرپور جواب دینے کی پاکستان بھرپور قوت رکھتا ہے۔
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

