Close Menu
Meezan News

    With every new follow-up

    Subscribe to our free e-newsletter

    اختيارات المحرر

    تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا

    فروری 10, 2026

    ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان

    فروری 9, 2026

    امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

    فروری 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, فروری 10, 2026
    رجحان ساز
    • تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
    • ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
    • امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
    • لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
    • جیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
    • ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
    • یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
    • غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
    Meezan NewsMeezan News
    For Advertisment
    • ہوم
    • بریکنگ نیوز
    • تازہ ترین
    • پاکستان
    • عالم تمام
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • فن و فرھنگ
    • کالم و بلاگز
    • ہمارے بارے میں
    • رابطہ
    Meezan News
    You are at:Home»عالم تمام»لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
    عالم تمام

    لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا

    لیبیا طویل عرصے سے سیاسی انتشار، مسلح دھڑوں کی کشمکش اور بیرونی مداخلت کا شکار ہے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک میں پائیدار استحکام بیرونی طاقتوں کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے
    shoaib87فروری 4, 2026Updated:فروری 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    تحریر: محمد رضا سید
    لیبیا کے سابق مطلق العنان قائد اور عرب قوم پرست رہنما معمر قذافی کے بیٹے اور سمجھے جانے والے سیاسی جانشین، 53 سالہ سیف الاسلام قذافی، طرابلس سے دور ایک پہاڑی قصبے میں ایک دہائی تک گمنامی کی زندگی گزارنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیے گئے، یہ واقعہ بعض مبصرین کو اُس انجام کی یاد دلاتا ہے جو روپوشی کے دوران خود معمر قذافی کے ساتھ پیش آیا تھا۔
    سیف الاسلام حالیہ برسوں میں صدارتی امیدوار کے طور پر دوبارہ منظرِ عام پر آئے تھے مگر ناقدین کے مطابق نیٹو ممالک نے انتخابی عمل کو سبوتاژ کیا، منگل کے روز سیف الاسلام کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے والے چار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے، لیبیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق تفتیش کاروں اور طبی ماہرین نے لاش کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ موت گولیوں کے زخموں سے واقع ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
    اگرچہ سیف الاسلام نے لیبیا کے اُس دور میں جب اُن کے والد اقتدار میں تھےکوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالاتاہم انہیں معمر قذافی کے بعد ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا،معمر قذافی نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لیبیا پر حکمرانی کی ہے، سیف الاسلام نے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی اور لیبیا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا،انہوں نے خود کو ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کیا، آئین سازی اور انسانی حقوق کے احترام کی بات کی، لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے سیف الاسلام کو ایک وقت میں کئی مغربی حلقوں میں لیبیا کا قابلِ قبول چہرہ سمجھا جاتا تھاتاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بالآخر وہ بھی مغربی پالیسیوں کے لیے قابلِ قبول ثابت نہ ہو سکے۔
    2011ءمیں جب معمر قذافی کی طویل حکمرانی کے خلاف بغاوت کو نیٹو ملکوں نے ہوا دی تو سیف الاسلام نے باغیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں 2022ء کے بعد ہوا اور ابتک جاری ہے، یہی حال بحرین اور سعودی عرب میں دیکھا جاتا رہا ہے، جہاں سیاسی مخالفین کو بدترین تشدد اور فوجی حملوں کا نشانہ بنایا گیا مگر وہاں مغربی ملکوں کو انسانی حقوق یاد آئے اور نہ جمہوریت کا راگ چھیڑا گیا، مغربی حکومتیں انسانی حقوق اور جمہوریت کو اپنے مادی مفادات کیلئے جہاں چاہتیں ہیں استعمال کرتی ہیںانہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارا جینا مرنا لیبیا میں ہے، بیرونی قوتیں ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں بعد ازاں وہ گرفتار ہوئے، روپوش رہےاور پھر طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں جنگی جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی، اسی دوران وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو بھی مطلوب تھے۔
    سیف الاسلام قذافی کو 2017 میں عام معافی کے قانون کے تحت رہائی ملی، رہائی کے بعد وہ آہستہ آہستہ دوبارہ سیاسی منظرنامے پر متحرک ہوئے، لیبیائی تجزیہ کاروں کے مطابق وہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے وفود سے ملاقاتیں کرتے اور سیاسی مستقبل پر گفتگو کرتے تھے، 2021ء میں وہ روایتی لیبیائی لباس میں جنوبی شہر سبھا میں صدارتی انتخابات کے لیے نامزدگی جمع کرانے منظر عام پر آئے، ان کی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ 2011 سے پہلے کے استحکام کی یاد کو سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کرنا تھا تاہم ان کی امیدواری شدید متنازع بنادی گئی قذافی دور کے متاثرین اور کئی مسلح گروہوں سے مخالفت کرائی گئی اور دباؤ اس قدر بڑھا کہ 2015 کی عدالتی سزا کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیا گیااور جب انہوں نے اپیل کرنے کی کوشش کی تو نیٹو حمایت یافتہ مسلح افراد نے عدالتوں کو بند کرادیا، نیٹو ممالک نہیں چاہتے کہ لیبیا میں سیاسی استحکام پیدا ہو انہیں حفتر جیسے نجی ملیشیا رکھنے والوں سے کام ہے وہ تیل کے ذخائر پر قابض ہے اور اس دولت سے پورا مغرب فیضیاب ہورہا ہے۔
    لیبیا طویل عرصے سے سیاسی انتشار، مسلح دھڑوں کی کشمکش اور بیرونی مداخلت کا شکار ہے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک میں پائیدار استحکام بیرونی طاقتوں کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے جبکہ دیگر مبصرین اس بحران کو اندرونی تقسیم اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ سیف الاسلام قذافی کی موت لیبیا کی سیاست پر کیا اثر ڈالے گی؟ کیا اس سے صدارتی انتخاب کی ایک بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے، یا یہ واقعہ مزید عدم استحکام کو جنم دے گا؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں لیبیا کی اندرونی سیاسی پیش رفت اور بین الاقوامی سفارتی رویّوں سے جڑا ہوگا۔

    Political instability in Libya
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
    Next Article امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
    shoaib87
    • Website

    Related Posts

    تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا

    فروری 10, 2026

    ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان

    فروری 9, 2026

    امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

    فروری 7, 2026

    Comments are closed.

    مقبول مضامين

    تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا

    فروری 10, 2026

    ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان

    فروری 9, 2026

    امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

    فروری 7, 2026

    لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا

    فروری 4, 2026
    پاکستان
    عالم تمام فروری 10, 2026

    تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا

    ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے پیر کے روز کہا کہ اگر تمام مالی…

    ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان

    فروری 9, 2026

    امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

    فروری 7, 2026
    ہمیں فالو کریں
    • Facebook
    • YouTube
    • TikTok
    • WhatsApp
    • Twitter
    • Instagram
    Visitor Counter
    1237224
    Most Watched

    امریکی صدر کے 20 نکات ردی دان کی نذر ہوگئے، حماس کے 8 نکات جنگ بندی کی بنیاد ہوں گے

    اکتوبر 9, 202516,425 Views

    پاکستان میں جمہوریت کا زوال 165 ملکوں میں 124ویں نمبر پر آگیا، 10 بدترین ملکوں میں شامل

    فروری 28, 202516,339 Views

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کا منصوبہ پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

    مئی 5, 202516,194 Views
    Editor's Picks

    تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا

    فروری 10, 2026

    ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان

    فروری 9, 2026

    امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

    فروری 7, 2026
    © 2026 میزان نیوز
    • Home

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.