ایران کے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایرانی قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر اپنی مضبوطی اور استقامت کا بھرپور مظاہرہ کریں کیونکہ قومی اتحاد دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے، 11 فروری کو منعقد ہونے والی ریلیوں سے قبل نشر کیے گئے ایک ٹیلی ویژن پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے اس دن کو ایرانی قوم کی طاقت اور وقار کا مظہر قرار دیا، انہوں نے کہا بہمن کی 22 تاریخ (11 فروری) ہر سال ایرانی قوم کی طاقت اور عظمت کے اظہار کا دن ہوتا ہے، ان کے بقول ایرانی قوم باشعور، پُرعزم، ثابت قدم اور اپنے حالات سے آگاہ ہے، رہبرِ انقلاب نے یاد دلایا کہ 11 فروری 1979ء کو ایرانی عوام نے ایک عظیم فتح حاصل کی تھی، جب انہوں نے اپنے ملک کو غیر ملکی مداخلت سے آزاد کرایا، ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے بیرونی طاقتیں مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ ایران کو ماضی کی حالت میں واپس لے جائیں، آیت اللہ خامنہ ای نے زور دے کر کہا ایرانی قوم ثابت قدم کھڑی ہے اور اس استقامت کی علامت 22 بہمن ہے، انہوں نے سالانہ ریلیوں کو دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی اور قوم ہر سال اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اپنی آزادی کی یاد منانے کی مثال پیش نہیں کرتی، ان کے مطابق یہ مظاہرے اُن عناصر کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں جو ایران اور اس کے مفادات پر نظر رکھتے ہیں۔
رہبرِ انقلاب اسلامی نے کہا کہ قومی طاقت کا انحصار صرف میزائلوں اور جنگی طیاروں پر نہیں بلکہ قوموں کے عزم اور استقامت پر زیادہ ہوتا ہے، انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ مختلف میدانوں میں اپنی ثابت قدمی کا اظہار جاری رکھیں اور دشمن کو مایوس کریں، ان کا کہنا تھا کہ جب تک دشمن مایوس نہ ہو، قوم خطرات کی زد میں رہتی ہے، اتحاد، مضبوط ارادہ، جذبہ، اور دشمن کی ترغیبات کے مقابل مزاحمت یہی قومی طاقت کے بنیادی ستون ہیں، آیت اللہ خامنہ ای نے امید ظاہر کی کہ ایران کے نوجوان علم، عمل، تقویٰ، اخلاقیات اور مادی و روحانی ترقی کے میدانوں میں مزید آگے بڑھیں گے اور ملک کے لئے باعثِ فخر بنیں گے، انہوں نے کہا کہ 11 فروری ان تمام خوبیوں کی عکاسی کرتا ہے، جب عوام سڑکوں پر نکل کر اتحاد، اسلامی جمہوریہ سے وفاداری، اور وطن سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال کی ریلیاں بھی گزشتہ برسوں کی طرح ایرانی قوم کی عظمت کو مزید نمایاں کریں گی۔
واضح رہے سنہ 1979ء میں ایران میں جمہوری اسلامی نظام کے بعد یہ ملک دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہوگیا جن پر سب سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں، ایران پر اقوامِ متحدہ، امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے مختلف نوعیت کی بین الاقوامی پابندیاں مسلط کی گئیں، ان پابندیوں کی وجوہات اور دائرہ کار ایک جیسے نہیں رہے، جوہری پھیلاؤ کے خدشات سے لے کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت جیسے الزامات تک، مختلف بنیادوں پر برسوں بلکہ دہائیوں سے یہ پابندیاں مختلف شکلوں میں نافذ رہی ہیں۔
منگل, فروری 10, 2026
رجحان ساز
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
- جیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی

