پیر کے روز آسٹریلیا بھر میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کی آمد کے خلاف احتجاج کیا، وہ غزہ میں فلسطینیوں کی منظم نسل کشی کے بعد وہاں پہنچے تھے، اُن کا یہ دورہ گزشتہ سال ہلاکت خیز فائرنگ کے بعد آسٹریلیا کی یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لئے کئی شہروں کے دورے پر ہیں، غاصب ریاست کے صدر ہرزوگ کا یہ دورہ وزیر اعظم انتھونی البانیزی کی دعوت پر ہو رہا ہے، خیال رہے کہ 14 دسمبر کو سڈنی کے بونڈائی بیچ پر یہودیوں کے تہوار ہنوکا کی ایک تقریب میں دہشت گردوں کی جانب سے گئی فائرنگ کے نیتجے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے، ہرزوگ کا یہ دورہ آسٹریلیا کے باضمیر حلقوں میں غم و غصے کا باعث بنا ہے، جو ہرزوگ پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں شراکت داری کا الزام لگاتے ہیں، آسٹریلیا میں غزہ میں فلسطینی نسل کشی کے خلاف سرگرم گروپوں نے پیر کی شام ملک بھر میں شہروں اور قصبوں میں احتجاج کیے۔
سڈنی میں ہزاروں افراد شہر کے مرکزی کاروباری علاقے کے ایک چوک میں جمع ہوئے، انہوں نے تقاریر سنیں اور فلسطین کے حق میں نعرے لگائے، مظاہرہ میں شامل سڈنی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ جیکسن ایلیٹ نے کہا بونڈائی قتلِ عام خوفناک تھا لیکن ہماری آسٹریلوی قیادت کی جانب سے فلسطینی عوام اور غزہ کے لوگوں کی جدوجہد کو تسلیم یا ان کا اعتراف نہیں کیا گیا، احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، ہیلی کاپٹر فضا میں گشت کر رہے تھے اور گھڑ سوار اہلکار بھی وہاں موجود تھے، پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے اور حفاظتی حصار توڑنے سے روکنے کے لئے مرچوں کے اسپرے اور آنسو گیس کا استعمال کیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا، دوسری جانب یہودی برادری کے ہزاروں افراد حکومتی عہدیداروں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے احتجاجی مقام سے ایک کلومیٹر سے زائد فاصلے پر ہونے والی تقریب میں ہرزوگ کا خیرمقدم کیا، جہاں بونڈائی حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ منگل کی شام سڈنی کے علاقے سری ہلز میں واقع سڈنی پولیس سینٹر کے قریب ہارمنی پارک میں مظاہرین جمع ہوئے، یہ اجتماع پیر کے روز سڈنی ٹاؤن ہال کے باہر اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے دورے کے خلاف ہونے والے مظاہرے پر پولیس کے سخت ردِعمل کے بعد سامنے آیا، جسے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، پولیس نے پیر کی رات گرفتار کیے گئے 27 مظاہرین میں سے 9 پر فردِ جرم عائد کردی ہے جبکہ مزید الزامات کی بھی توقع کی جا رہی ہے، ایک شخص جس پر پولیس پر حملے کا الزام ہے کو منگل کے روز عدالت سے ضمانت مل گئی، پولیس کی کارروائی کے حوالے سے اب ایک آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے تاہم نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ کرس منس اور پولیس کمشنر مال لینیَن نے اس رات پولیس اقدامات کا دفاع کیا ہے۔
دوسری جانب صدر ہرزوگ نے آج صبح کوئنز پارک میں موریا وار میموریل کالج کے طلبہ سے ملاقات کی، اس موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، جن میں لمبے ہتھیاروں سے لیس پولیس اہلکار اور نجی سکیورٹی ٹیم بھی شامل تھی، پیر کے احتجاج کے بعد اسپتال منتقل کی جانے والی نیو ساؤتھ ویلز گرینز کی رکنِ پارلیمان ایبیگیل بوئڈ نے آج صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں پولیس کمشنر کا سامنا کیا اور شدید غصے کا اظہار کیا، انہوں نے الزام لگایا کہ ٹاؤن ہال کے باہر پولیس اہلکاروں نے انہیں دھکے دیئے اور بدسلوکی کی انہوں نے کمشنر کو بتایا کہ انہیں دھکا دینے سے چوٹیں آئیں جبکہ اُنھوں نے بار بار کہا یہ بالکل درست نہیں ہے، اُن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک میں ایسی ریاست کے صدر کو خیرمقدم نہیں کریں گی جس کی فوج بچوں کو ہلاک کررہی ہو گھروں کو مسمار کرتی ہو اور ہسپتالوں پر بمباری کرکے منظم نسل کُشی میں ملوث ہو۔
ادھر اسرائیل نواز سابق وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ نے تجویز دی ہے کہ گزشتہ روز مظاہرین کو مکے مارنے والے پولیس اہلکاروں کو شاباش دی جانی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ایسے مظاہروں سے نمٹنے کے لئے پولیس کو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سے بھی لیس ہونا چاہیے تاکہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کُشی کے خلاف مظاہروں سے نمٹا جا سکے۔
منگل, فروری 10, 2026
رجحان ساز
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
- جیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع

