تحریر: علی حسن سید
کراچی میں معمول کی حالیہ بارشوں کے دوران سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے، شہریوں نے صوبائی وزراء سعید غنی، شرجیل میمن، ناصر شاہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، سالنان شہر قائد کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے 18 سالہ دور حکومت میں کراچی سمیت سندھ کے تمام علاقے موہن جو دڑو میں تبدیل کردیئے ہیں، سندھ حکومت کے موجودہ اور سابق وزراء کے خلاف بھرپور تحقیقات کرائی جائے اور اِن کی تمام ملک کے اندر اور باہر منقولہ اور غیرمنقولہ جائیدادوں کا پتہ لگایا جائے، کراچی میں حالیہ معمول کی بارشوں کے بعد سڑکوں پر جگہ جگہ پانی جمع ہے اور گڑھا پڑنے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے، شہریوں کی شدید مشکلات کا سامنا ہے، نجی دفاتر نے ملازمین کی سہولت کیلئے دفاتر بند رکھے جوکہ حادثات میں کمی کا سبب بنے، مارکٹیں اور بازار کیچڑ اور کچرے سے بھر گئیں، بارش کے بعد قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے مرکزی دروازے اور ایمرجنسی کے سامنے برساتی پانی تاحال جمع ہے جس کی وجہ سے مریضوں اور انکے تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، بارش کے پانی جمع ہونے کے باعث مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی، قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاسکا، شہر میں بجلی بریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، بجلی کی طویل بندش پر جمعرات کو تنگ شہری بالآخر مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، کے الیکٹرک کے حکام کی نااہلی نے شہریوں کے مصائب میں مزید اضافہ کیا، بزرگ شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے، اُدھر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد جاوید بلوانی اور بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے شہر میں بارشوں کے بعد پیدا ہونے والے سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر کراچی میں ہنگامی حالت کا نفاذ کرے، بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کو مؤخر کیا جائے، ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ موسلا دھار بارشوں نے کراچی بھر میں تباہی مچا دی ہے، شہر کے ہر کونے کو مفلوج کر دیا ہے اور شہریوں کو ناقابلِ برداشت مشکلات میں ڈال دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کا انجن ہونے، قومی خزانے میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے اور پورے ملک کو سہارا دینے کے باوجود کراچی کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ شہر کے بوسیدہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی قلیل سرمایہ لگایا جاتا ہے۔
کراچی میں سندھ حکومت اور مقتدرہ کی ملی بھگت اور مذموم سیاسی عمل کے بعد جس شخص(مرتضیٰ وہاب) کو کراچی کا میئر بنایا گیا انہیں کراچی کی سڑکوں پر کھڑا پانی نظر نہیں آرہا ہے جبکہ اُن کا دعویٰ ہے کہ شہر کے تمام نالے چل رہے ہیں اور کراچی کے جھوٹے بڑے نالے کہیں چوک نہیں ہوئے، مصیبت کے اِن ایام میں ایم کیوایم سیاست کرتی تو نظر آئی مگر اس کے رہنماؤں نے ریلف کے کاموں سے اپنے آپ کو بچاکر رکھا البتہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ارکان اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے ریلف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے دکھائی دیئے، اسی طرح جماعت اسلامی نے بھی کچھ علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کئے اور چندہ وصول کرنے کے کاموں میں مصروف ہوگئے، کراچی میں سیاسی نمائندگی کون کررہا ہے اس کو فروری 2024ء کے الیکشن کے دوران دھاندلی اور فوجی حکام کی مداخلت نے مشکوک بنادیا اور ایسا لگتا ہے کہ اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

