ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو ایران پر حملے کا جوابدہ نہ ٹھہرایا گیا تو پورا خطہ اور اس سے آگے بھی دنیا متاثر ہوگی، اسرائیل اور امریکا کا احتساب ہونا چاہیے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیلی حکومت اور امریکہ کی جارحیت کی غیر قانونی تھی جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے اور سفارت کاری کیلئے ایک دھچکا ہے، اقوام متحدہ کو اسرائیل اور امریکہ کی مذمت کرنا چاہیئے تاکہ دنیا کے نظام کو عالمی قوانین کی روشنی میں خوش اسلوبی سے چلایا جاسکے، عراقچی نے یہ بات برازیل کے وزیر خارجہ مورو ویرا کے ساتھ ملاقات میں کہی جو اتوار کو برازیل میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے برکس گروپ کے 17 ویں سربراہی اجلاس کی سائڈ لاین پر ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل حملے جوہری عدم پھیلاؤ کی سفارت کاری پر بھی حملہ تھا جس کے علاقائی امن اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، اُنھوں نے ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے خلاف برازیل کے مضبوط اور اصولی موقف کو بھی سراہا، عراقچی نے امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو دی گئی استثنیٰ نے اس ملک کو خوںخوار اور بدمعاش ریاست میں تبدیل کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی برادری قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم روکیں، اُدھر قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برازیل میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ہمارے جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس نے 2015ء میں ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی اتفاق رائے سے توثیق کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے میں امریکی حکومت کی شمولیت نے اس بات میں کوئی شک نہیں چھوڑا کہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت میں مکمل طور پر شریک ہے، ریو ڈی جنیرو میں اتوار کو ہونے والے اجلاس میں ایران کو برکس پلس ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جس میں اس اتحاد نے اسرائیل اور امریکا کے حالیہ فضائی حملوں کی مذمت کی، جن میں فوجی، جوہری اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا، 11 ممالک پر مشتمل اس گروپ نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برکس ممالک 13 جون 2025ء سے اسلامی جمہوریہ ایران پر ہونے والے فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اگرچہ بیان میں امریکا یا اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا، برکس نے مزید کہا کہ ہم شہری انفرااسٹرکچر اور پُرامن جوہری تنصیبات پر جان بوجھ کر کیے گئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں، یہ اعلامیہ تہران کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے، جسے اسرائیلی فوج کی 12 روزہ بمباری کے بعد (جو امریکی حملوں کے ساتھ نطنز، فردو اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ختم ہوئی) علاقائی یا عالمی سطح پر محدود حمایت حاصل ہوئی تھی۔ اسرائیلی حکومت نے 13 جون کو ایران کے خلاف ایک صریح اور بلا اشتعال جارحیت کا آغاز کیا، جس میں عام شہریوں کے علاوہ کئی اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

