غزہ میں اتوار کے روز امریکی گروپ کی طرف سے چلائے جانے والے امدادی ڈسٹری بیوشن سنٹر پر غذائی امداد کیلئے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں کم از کم 31 فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ کے جنوبی علاقے رفحہ میں پیش آنے والا تازہ ترین واقعہ نہایت ہولناک تھا جہاں بچوں اور عورتوں کی گولیاں لگی ہوئی لاشیں بکھری ہوئی نظر آرہی تھیں، اس اسرائیلی حملے میں 23 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 16 بچے شامل ہیں بین الاقوامی ریڈ کراس سے وابستہ مقامی فلسطینی ہلال احمر نے کہا کہ اس کی طبی ٹیموں نے 23 فلسطینیوں کی لاشیں نکالی ہیں اور 23 دیگر زخمیوں کا رفح میں طبی امداد پہنچائی گئی، ہلال احمر نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ وسطی غزہ میں ایک الگ مقام پر 14 فلسطینی زخمی ہوئے، امریکی گروپ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن وسطی غزہ میں امداد کی تقسیم کا کام ایک ماہ سے کررہی ہے، قبل ازیں فلسطینی خبر رساں ایجنسی اور حماس سے منسلک میڈیا نے ہلاکتوں کی تعداد 30 بتائی تھی، اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ان رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے کہ فلسطینیوں کو امداد کی تقسیم کے مقام پر گولیاں کیوں چلائی گئی ہیں؟ مقامی افراد اور طبی ماہرین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے قریب سے گولی چلائی جو علاقے میں پہلے سے موجود ہے، جن فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا وہ رفحہ میں قائم امدادی ڈسٹری بیوشن سنٹر سے غذائی امداد لینے کیلئے گئے تھے، امریکی بیس امدادی ادارہ اسرائیلی حکومت کی ایماء پر غزہ میں تین مقامات پر امداد تقسیم کررہا ہے اور تینوں سینٹرز پر افراتفری کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی فوٹیج میں ایمبولینس گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں جو زخمیوں کو ناصر ہسپتال لے جارہی ہیں، حماس کے زیر انتظام غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے کہا کہ اسرائیل نے امداد کے حصول کیلئے بے چین فلسطینیوں میں موت تقسیم کی ہے اور عالمی برادری نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، حماس دنیا کے سامنے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ ہے اور غذائی امداد کو اسرائیلی فوج فلسطینیوں کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے، غذائی امداد کو بھوک سے مرتے شہریوں کے استحصال کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور انہیں زبردستی قتل کرنے والے علاقوں میں جمع کیا جاتا ہے، جن کا انتظام اور نگرانی اسرائیلی فوج کرتی ہے، غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن امریکہ میں قائم ایک ادارہ ہے جسے امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے جو روایتی امدادی گروپوں کو نظرانداز کرتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جارہا ہے، اس نے گزشتہ ماہ غزہ میں کام شروع کیا ہے اور اس کے پاس تین مقامات ہیں جہاں سے ہزاروں افراد امداد جمع ہوتے ہیں، غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے اور اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مئی میں استعفیٰ دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اس ادارے کی آزادی مشکوک اور غیرجانبداری کا فقدان ہے، یہ واضح نہیں ہے کہ ادارے کو کون فنڈ فراہم کررہا ہے۔
ہفتہ, فروری 14, 2026
رجحان ساز
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
- لیبیا جہاں خونریزی جاری معمر قذافی کی طرح بیٹے سیف الاسلام کو بھی نامعلوم افراد نے قتل کردیا
- جیفری ایپسین فائلز واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کردیا
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا

