امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے کا فی الحال امکان تو نہیں ہے مگر اسرائیل اسکی صلاحیت رکھتا ہے، اُنھوں نے کہا کہ وہ تہران کے ساتھ تنازعہ سے بچنے اور اس کے جوہری پروگرام پر پرامن حل تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں، 16 کے مقابلے میں 19 ارکان بشمول برطانیہ، فرانس، جرمنی نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی ایک قرارداد منظور کی جس میں ایران کو ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا موردالزام ٹہرایا گیا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے، ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ ایک دوست ملک نے اسے ممکنہ اسرائیلی حملے سے خبردار کیا تھا، واشنگٹن کو تشویش ہے کہ اسرائیل آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے، امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو کہا گیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے دوران کسی بھی حملے سے باز رہے، برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے میڈیا کو خبر دی ہے کہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے لیکن ایک اور امریکی اہلکار نے کہا کہ ایسا کوئی نشان نہیں ہے کہ اسرائیل نے کوئی حتمی فیصلہ کرلیا ہے، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایسا نہیں کہنا چاہتا کہ اسرائیل کسی حملے کی تیاری کررہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ ہو سکتا ہے جو بہت اچھی طرح سے ہو سکتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ٹرمپ نے کہا میں تنازعہ سے بچنا پسند کروں گا، انہوں نے کہا کہ ایران سے تھوڑا سخت گفت و شنید کرنا پڑے گی، مطلب کہ انہیں ہمیں وہ کچھ دینا پڑے گا جو وہ ابھی دینے کیلئے تیار نہیں ہیں جبکہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان غزہ جنگ کے پھیلاؤ کے اثرات سے مشرق وسطیٰ میں سلامتی پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکی ہے، ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جوہری مذاکرات سے کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو وہ ایران پر حملہ کردیگا، انہیں یقین کم ہو گیا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی روکنے پر رضامند ہو جائے گا، ٹرمپ نے مایوسی کا اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تنازعے سے پیدا ہونے والے سپلائی کے خدشات کے درمیان تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، ایک سینئر ایرانی اہلکار نے جمعرات کو رائٹرز کو بتایا کہ تازہ ترین کشیدگی کا مقصد اتوار کے مذاکرات کے دوران تہران کو اپنے جوہری حقوق کے بارے میں پوزیشن تبدیل کرنے پر اثر انداز ہونا ہے، تہران آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران مخالف قرارداد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ایران کی جوہری ایجنسی ایک نئی محفوظ تنصیب میں یورینیم افزودگی میں اضافہ کرئیگا، ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ترجمان اور نائب سربراہ بہروز کمال وندی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جانب سے ایران مخالف تازہ ترین قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مکروہ مغربی حربہ قرار دیا، انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس طرح کی قراردادیں جاری کی گئی ہیں، ان کا خیال ہے کہ دباؤ ایران کو اپنے جائز موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گا، یہ ایک سنگین اسٹریٹجک غلطی ہے، کمال وندی نے تصدیق کی کہ ایران ایک محفوظ مقام پر تیسرے افزودگی کمپلیکس کو فعال کرے گا۔
منگل, جنوری 20, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

