پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر سوراب میں جمعہ کے روز مسلح افراد کے حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ہدایت بلیدی جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ عسکریت پسندوں نے متعدد سرکاری عمارات کو بھی نذر آتش کردیا، سرکاری حکام کے مطابق 60 سے زائد مسلح افراد شہر میں داخل ہوئے اور دو گھنٹے سے زائد تک شہر کے بعض اہم حصے ان کے کنٹرول میں رہے جن میں سرکاری دفاتر بھی شامل تھے، حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے اے ڈی سی ریونیو ہدایت بلیدی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے دوران اے ڈی سی ریونیو مسلح افراد کے خلاف لڑتے ہوئے جاں بحق ہوئے، ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے سوراب بازار میں ایک بینک کو بھی لوٹا ہے جبکہ مختلف سرکاری افسران کے گھروں کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے، سوراب میں مسلح افراد کا بینک اور انتظامی افسران کی رہائشگاہوں پر حملہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی مذموم کوشش ہے، ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کا مسلح افراد کے خلاف علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، سوراب شہر میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے، قلات ڈویژن کے ایک سینیئر انتظامی آفیسر نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ 60 سے زائد مسلح افراد مختلف اطراف سے سوراب شہر میں شام کے وقت داخل ہوئے، شہر میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے اہم علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا جن میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، پولیس تھانہ، لیویز فورس کا تھانہ وغیرہ شامل تھے، ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد تقریباً دو گھنٹے سے زائد شہر کے مختلف علاقوں میں رہے اور جانے سے قبل انھوں نے ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے گھروں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ، بینک، پولیس تھانہ اور لیویز فورس کے تھانے کو بھی نذرآتش کیا، سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پولیس تھانہ سوراب سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، سوراب شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 250 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں کوئٹہ کراچی ہائی کے قریب واقع ہے۔
سوراب شہر سمیت ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے، ضلع سوراب انتظامی لحاظ سے بلوچستاں کے قلات ڈویژن کا حصہ ہے، قلات ڈویژن کے دیگر اضلاع خضدار، قلات، آواران، لسبیلہ، حب اور مستونگ کی طرح سوراب میں بھی ماضی میں سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن دیگر اضلاع کے مقابلے میں سوراب میں ان کی شرح کم رہی ہے، تاہم قلات ڈویژن کے کسی اور علاقے کے مقابلے میں آبادی کے لحاظ سے کسی بڑے شہر میں یہ اپنی نوعیت کی یہ بڑی مسلح کارروائی ہے، اس قبل مسلح افراد نے اس ڈویژن کے ضلع خضدار کے دو شہروں زہری اور اورناچ میں اس نوعیت کی کاروائیاں کی تھیں جبکہ 2024ء سے قلات ڈویژن سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں قومی شاہراہوں پر بھی مسلح افراد ناکہ بندی کرتے رہے ہیں جن کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں، تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں سکیورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے، دوسری طرف ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر پاکستان کو ہدف بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی دھوکے میں نہ رہے کیونکہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے، ہندوستان کے شہر کانپور میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی میں واضح طور پر تین نکات طے کیے ہیں، نریندر مودی نے کہا کہ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان ہر دہشت گردانہ حملے کا مؤثر اور فوری جواب دے گا، دوسرا یہ کہ جواب دینے کا وقت، طریقہ کار اور ضوابط ہماری مسلح افواج طے کریں گی اور تیسرا یہ کہ ہندوستان اب ایٹم بم کی گیڈر بھبکی سے نہیں ڈرے گا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرے گا۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

