اسلامی انقلاب کے قائد آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ کو ایران کے خلاف دھمکیوں کی زبان استعمال کرنے سے گریز کرئے، نوروز کے موقع پراپنے خصوصی خطاب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اگر مخالفین ایران کے خلاف کوئی بدنیتی پر مبنی کسی بھی قسم کی کارروائی کریں گے تو انہیں سخت جواب ملے گا، انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایران کے معاملے میں دھمکیوں کے ذریعے کبھی بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، اُنھوں نے مزید کہا کہ اگر مخالفین نے ایران کے خلاف کوئی شیطانی حرکت کی تو ان کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا جائے گا، ایران کے سپریم لیڈر کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ ایران کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کے ساتھ ساتھ دو ماہ کے اندر ایٹمی معاہدہ کرنے کے خواہشمند ہیں، اس سے قبل بھی ایرانی رہنماؤں نے دھمکیوں کیساتھ مذاکرات کی پیشکش کو در کیا تھا، انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے ساتھ معاملات میں، وہ دھمکیوں کا استعمال کرتے ہوئے کبھی بھی کہیں نہیں پہنچ سکتے، آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اس طرح کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے خلاف ایرانی قوم جوانمردی کیساتھ کھڑی اور اپنے ملکوں کا دفاع کرنے والے فلسطینیوں اور لبنانیوں کی حمایت میں اپنے موقف پر قائم ہے اور رہیگا، اُنھوں نے ایرانی پراکسیوں کے نیٹ ورک کے طور پر مزاحمتی محاذ کی مغربی تصویر کشی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی کوئی پراکسی فورس نہیں ہے لیکن وہ خطے میں مزاحمتی قوتوں کی حمایت کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی اور یورپی حکام ایک بڑی غلطی کرتے ہیں جب وہ خطے میں مزاحمتی گروپوں کو ایرانی پراکسی کہتے ہیں تو یہ اپنے وطن کے دفاع میں لڑنے والی قوتوں کی توہین کرتے ہیں.
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یمنی کھڑے ہیں اور ظالموں کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں، یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ وہ ایسا ایران کے کہنے پر کررہے ہیں بالکل نہیں، یمن کا فیصلہ ایران کی طرف سے نہیں ہے، یمن کے عوام متحرک ہیں، علاقائی ممالک میں مزاحمتی مراکز آزادی اور خودمختاری کیلئے متحرک ہیں، ایران کو پراکسی کی ضرورت نہیں ہے، سپریم لیڈر نے سوال کیا پراکسی کا کیا مطلب ہے؟ رہبر معظم نے کہا کہ مزاحمتی محاذ نے گزشتہ سال کے دوران جابر طاقتوں کے ساتھ تصادم کی قیمتیں برداشت کیں لیکن کسی کو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بالآخر فتحیاب ہونگے، آیت اللہ خامنہ ای نے غیر مسلم ممالک میں بڑھتے ہوئے اسرائیل مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا نام لئے بغیر کہا کہ مغربی رہنما حقائق کو نہیں دیکھنا چاہتے اور اس کے بجائے ان یونیورسٹیوں کے فنڈز میں کمی کرنا چاہتے ہیں جن کے طلباء نے فلسطین کی حمایت میں مظاہرے کیے تھے، انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم، لبنان اور یمن سمیت مزاحمتی محاذ اندرونی اور ایمانی محرکات کے ساتھ کرپٹ اور ظالم صیہونی حکومت کے خلاف کھڑے ہیں، اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ آنے والے دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خط کا مناسب جواب دے گا، اُنھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کو لائیو پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہے، اُنھوں نے مزید کہا کہ اس بار یہ پیشرفت امریکیوں کے سفارتی اقدام کے ساتھ ہوئی ہے، جس میں ایک خط کے ذریعے مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے، اُنھوں نے وضاحت کیساتھ کہا کہ ایران دباؤ دھمکیوں یا بڑھتی ہوئی پابندیوں کے تحت براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔
جمعرات, اپریل 3, 2025
رجحان ساز
- ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی رہائی کیلئے دھرنا عید کے تیسرے روز بھی جاری رہا انٹرنیٹ بند
- ہنگری نے اسرائیلی وزیر اعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عملدآمد سے انکار کردیا
- جوہری معاہدہ کیلئے تیار ہیں دھمکیاں نہیں چلیں گی امریکہ سے بلواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں،عراقچی
- ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر اقوام متحدہ امریکی صدر کے بیانات کی مذمت کرئے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی عالمی تجارت اور جنوبی ایشیائی ملکوں کی ٹیکسٹائل صنعت کیلئے خطرہ
- بلوچستان میں بدامنی، صوبے کے چار اضلاع کی حدود میں قومی شاہراہوں پر سفر پر جزوی پابندی عائد
- زیلنسکی مستعفی ہوجائیں تاکہ یوکرین میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جاسکے، روسی مطالبہ
- گیس فیلڈ حملہ، یوکرین کی فنی مدد کرکے برطانیہ اور فرانس کی جنگی شعلوں کا رُخ موڑنے کی کوشش