افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کا کہنا ہے کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ لڑائی میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں، افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بدھ کو قندھار کے علاقے اسپین بولدک میں ہونے والی شدید فائرنگ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، مشن کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد معلوم کرنے کیلئے معلومات اکٹھا کی جا رہی ہیں تاہم حالیہ اطلاعات کے مطابق 17 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں اور 346 زخمی ہوئے ہیں، اقوام متحدہ نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیا ہے، گذشتہ روز پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی درخواست پر 48 گھنٹوں کیلئے جنگ بندی کر دی گئی ہے، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی ہے، دفتر خارجہ کے مطابق اس جنگ بندی کا نفاذ بدھ کی شام چھ بجے سے ہوا ہے، افغانستان میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں یہ بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ گذشتہ روز سے پہلے ہونے والی جھڑپوں میں 15 عام شہری زخمی ہوئے ہیں یہ حملہ پکتیا، کنڑ اور ہلمند میں ہوئے تھے، اقوام متحدہ نے فریقن پر عام شہریوں کے تحفظ اور ہلاکتوں کیلئے دشمنی ختم کرنے زور دیا ہے اور دونوں سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں، اس سے پہلے قندھار میں حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ چودہ اور پندرہ اکتوبر کے دوران پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں میں 15 عام شہری ہلاک اور 150 زخمی ہوئے ہیں، ایک طرف افغانستان پاکستان کے خلاف جنگ میں مصروف ہے تو دوسری طرف عالمی ادارۂ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خوراک کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوچکی ہے جہاں غذائی امداد صرف 10 فیصد ضرورت مند لوگوں تک ہی پہنچ رہی ہے، ادارے نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی نے بحران زدہ علاقوں کو امداد پہنچانے کی تیاری کے اقدامات کو بھی شدید متاثر کیا ہے تقریباً ایک دہائی بعد پہلی مرتبہ افغانستان میں سردیوں کی آمد پر امدادی خوراک کا ذخیرہ موجودہ نہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں اور بدھ کے روز 48 گھنٹوں کیلئے ہونے والی جنگ بندی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں جنگ بندی زیادہ نہیں چلے گی کیونکہ اِس وقت طالبان کے سارے فیصلے دلی سے اسپانسر ہو رہے ہیں، انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اس وقت ایک انڈیا کی پراکسی وار لڑ رہا ہے، جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور وہ اس وقت انڈیا کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ اس وقت افغان طالبان ٹی ٹی پی کے ساتھ مل گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی پر حملہ کیا تھا لیکن اس کے جواب میں ہونے والی کارروائیوں میں افغانستان بھی شامل ہوگیا، اگر افغانستان خود شامل ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دونوں فرنچائز ایک ہی چیز ہیں، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
منگل, جنوری 27, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

