امریکہ نے کہا ہے کہ وہ کولمبیا کے صدر گسٹو پیٹرو کا ویزا منسوخ کرنے جارہا ہے کیونکہ انہوں نے جمعہ کے روز نیو یارک کی سڑکوں پر غزہ میں اسرائیلی بربریت کے خلافایک بڑے مظاہرے میں شرکت کی اور امریکی فوجیوں سے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کی نافرمانی کریں، وزارت خارجہ نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ہم پیٹرو کا ویزا اس کی بے احتیاط اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی وجہ سے منسوخ کریں گے کولمبیا کے صدر گسٹو پیٹرو جو نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر اسرائیل مخالف مظاہرین کے ہجوم سے خطاب کررہے تھے، اُنھوں نے فلسطینیوں کی آزادی کیلئے ایک عالمی مسلح قوت کا مطالبہ کیا، اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ قوت امریکہ سے بڑی ہونی چاہیئے، اسی لئے میں نیو یارک سے امریکہ کی فوج کے تمام سپاہیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کی طرف اپنی بندوقیں اُٹھانے کے بجائے ٹرمپ کے احکامات کی نافرمانی کریں انسانیت کے احکامات کی اطاعت کریں، کولمبیا کے صدر گسٹو پیٹرو کے دفتر اور کولمبیا کی وزارت خارجہ نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا، ٹرمپ انتظامیہ فلسطینی حمایت میں آوازوں پر کریک ڈاؤن کررہی ہے جبکہ فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، ایسے اقدامات نے اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ کو غصے میں مبتلا کردیا ہے، پیٹرو جو کولمبیا کے پہلے بائیں بازو کے صدر ہیں اور غزہ میں اسرائیل کی جارحیت اور نسل کشی کے سخت مخالف ہیں، اُنھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں ٹرمپ پر تنقید کی، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اس سے قبل جوبائیڈن غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک ہیں اور کیریبین کے پانیوں میں تجارتی کشتیوں پر امریکی میزائل حملوں کے خلاف فوجداری کارروائیوں کا مطالبہ کیا، امریکہ کولمبیا کا اہم تجارتی شراکت دار اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں اس کا سب سے بڑا اتحادی ہے لیکن ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کولمبیا تعلقات کی شروعات اچھی نہیں رہی، جب پیٹرو نے ٹرمپ کی امیگریشن کریک ڈاؤن میں ڈی پورٹ ہونے والوں کو لے جانے والی فوجی پروازوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
دنیا بھر میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی مخالفت کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعہ کو اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر مذمت کی، اس سے قبل جب غزہ میں جنگی جرائم کا ملزم نیتن یاہو تقریر کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پہنچے تو وہاں اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے اور دنیا کے درجنوں ملکوں نے اس کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور ہال سے باہر چلے گئے، اس عالمی ردعمل سے یہ بلکل واضح ہوجاتا ہے کہ اسرائیل اپنی تاریخ کی بدترین تنہائی کا شکار ہے اس کے باوجود اسرائیل کی 80 فیصد سے زائد آبادی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی حمایت کررہی ہے، جو ایک بہت بڑا خطرہ ہے، دنیا کے مختلف ملکوں میں جنونی ذہنیت رکھنے والے افراد موجود ہوتے ہیں لیکن اتنی اکثریت میں کسی ایک ملک میں جنونی شہریوں کی موجودگی خود دنیا کیلئے خطرناک ہے اور وہ بھی ایسا ملک ہو جس کی بنیاد توسیع پسندی پر ہو اور ایٹمی ہتھیار بھی رکھتا ہو، نتین یاہو نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر یہودی کارڈ کھیلا جو دنیا بھر کے یہودیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، واضح رہے اسرائیلی عوام کی واضح اکثریت فلسطینیوں کی نسل کشی کی حمایت ایسے حالات میں کررہی ہے جب غزہ میں بھوک اور صحت کی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے معصوم بچے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، یہ اس کے علاوہ ہے کہ غزہ میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور صد فیصد غزہ کے شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

