تحریر: محمد رضا سید
دمشق کے سب سے بڑے دروز اکثریتی ضلع جرامنہ میں خوف نے جڑ پکڑ لی ہے، اندھیرے کے بعد گلیاں خاموش ہو جاتی ہیں جہاں بشارالاسد کے دور حکومت میں رونق لگی رہتی تھی اور رات گئے لوگ مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے جبکہ موجودہ صورتحال نے دروز کمیونٹی کو امریکی حمایت یافتہ مسلح گروہوں پر مشتمل دمشق حکومت کے مسلح گروہوں نے اس قدر خوفزدہ کردیا ہےکہ وہ گھروں میں بھی دھیمی آواز میں باتیں کرتے ہیں، انہیں خوف ہے کہ شدت پسند مسلح افراد اُن کے گھروں میں داخل ہوکر خواتین کی حرمت کو پائمال کردیں گے، سویڈا میں دمشق سے بھیجے گئے سابق دہشت گرد گروہوں سے وابستہ مسلح افراد کی قتل و غارتگری کی ویڈیوز کو دیکھ کر دورز کمیونٹی دمشق میں اپنے آپ کو اجنبی تصور کررہی ہے، دمشق میں مقیم تاجروں کے اتحاد نے حکومت کے حامی مسلح گروہوں کے حکم پر سویڈا کا مکمل بائیکاٹ کرنیکا اعلان کرتے ہوئےدروز اقلیت کو اشیائے خوردو نوش فروخت کرنے پر پابندی لگادی ہے، یہ اقدام انسانی معیار سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے جبکہ یہ کام مغرب کی حمایت یافتہ دمشق انتظامیہ کی ایماء کے ساتھ کیا جارہا ہے، صدر احمد الشعرا نے جمعرات17 جولائی کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے دروز کمیونٹی کو سخت لہجے متنبہ کیا کہ وہ شام کے سماجی تانے بانے کا ایک لازمی حصہ بنے رہیں اور علیحدگی پسندی کے کسی تصور کا ساتھ نہیں دیں، اُنھوں نے کہا کہ ریاست نے سویڈا کو محفوظ بنانے کا کام مذہبی رہنماؤں کو سونپ دیا ہے، جس کو انہوں نے وسیع تر تنازعات سے بچنے کیلئے دروز کمیونٹی کی قسمت قرار دیا۔
شام میں مذہبی شدت پسندی کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے، دروز اور علویز مسلمانوں سے جدا ہونے والے گروہ ہیں، شام کے سابق صدر بشار الاسد کا تعلق اس ملک کی 25 فیصد سے زائد آبادی علویز سے تھا، جنھوں نے اسرائیل کے خلاف کئی دہائیاں مزاحمت میں گزاری ہیں، اسرائیل نے اس کمیونٹی پر دمشق انتظامیہ کے مظالم پر علویز کمیونٹی کی داد رسی نہیں کی، انہیں مرنے اور کٹنے دیا مگر دروز کمیونٹی کی حمایت میں اسرائیل کھڑا ہوگیا اور اس بہانے شام کے دفاعی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا صرف اس لئے کہ سویدا میں دمشق انتظامیہ کے مسلح شدت پسند قتل و غارتگری میں ملوث ہیں، یاد رہے کہ دروز شام اور لبنان کے علاوہ اسرائیل کے زیر قبضہ جولان کے علاقوں میں بڑی تعداد میں آباد ہیں، دروزوں کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے اپنی کمیونٹی کی عافیت کو اسرائیل کیخلاف عدم مزاحمت کی پالیسی اختیار کرنے میں سمجھا، جس طرح لبنان کے عیسائی اور اہل سنت کا ایک مخصوص گروپ ایسی پالیسی پر عمل کررہا ہے، لبنان کے اسٹریٹجک مقامات پر دورز آبادی کی موجودگی متعدد مرتبہ حزب اللہ اور دروز ملیشیا کے درمیان تصادم کا سبب بنی کیونکہ اسرائیل نے تحفظ فراہم کرنے کے بیانیہ پرکمزور دروز کمیونٹی کو استعمال کیا ہے، حزب اللہ نے اسرائیل کی اس سازش کو لبنان کی حد تک ناکام بناکر دورز کمیونٹی کو سیاسی اور اجتماعی تحفظ فراہم کیا، شام میں دہائیوں سے مسلط عرب قوم پر ست جماعت بعث پارٹی کے دور حکمرانی میں دروز عرب قومیت پر مبنی نظریے کی چھتری کے نیچے محفوظ رہے لیکن جب دمشق پر مذہبی عناصر نے قبضہ کرلیا تو علویز اور دردز کمیونٹیز اُن کے نشانے پر رہیں جبکہ ترکیہ نے شدت پسندوں کو دمشق پہنچنے سے پہلے ہی شیعہ مسلمانوں سے بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ کے راستے کو بند کرانے کیلئے غیر رسمی معاہدہ کرادیا تھا لہذا شام کے 12 فیصد شیعہ مسلمان اور دمشق کے مضافات میں زینبہ کا علاقہ قدرے محفوظ رہا جہاں نواسی رسولؐ کا روضہ مبارک ہے حالانکہ دمشق کی موجودہ انتظامیہ میں شامل شدت پسند گروہ اس روضہ مبارک کو مسمار کرنے کی متعدد کوششیں کرچکے تھے، یہاں اس وضاحت کی ضرورت موجود ہے کہ ترکیہ کے اہل سنت مسلمان اہل بیت رسولؐ سے محبت کو اپنے ایمان کا حصّہ سمجھتے ہیں ترکیہ میں آج بھی اصحاب رسولؐ سے منسوب مَزارات اور تبرکات موجود ہیں جبکہ سعودی مذہبی نظریہ اہل بیت رسولؐ کے مزارات کو مسمار کرنے پر مبنی ہے شام اور عراق میں مسلح گروہوں کی زیادہ تعداد اسی نظریہ پر عمل کرتی ہے۔
اسرائیل دروز کمیونٹی کی مدد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے مذموم سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے کررہا ہے، جسے دمشق کی مسلح گروہوں پر مشتمل کمزور ترین انتظامیہ نظرانداز کررہی ہے، اسرائیل دروز کمیونٹی پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بنیاد بناکر دمشق کے شمال مشرق تک اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے، اسرائیل کی اسلام اور عرب دشمنی کھلی ہوئی حقیقت ہے لیکن جب مقتدر افراد ہی لقمہ تَر بننے کیلئے تیار ہوجائیں توسازش کا نظر نہ آنا عقل سے متصادم بات ہے، یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سابق شامی صدر بشار الاسد کا اقتدار ختم کرنے کے پیچھے مغرب کا بنیادی خیال اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تقویت پہنچانا تھا، شام کو عرب قومیت کے نظریے نے متحد کررکھا تھا لیکن اس حقیقت کو کیسے فراموش کردیں کہ شام کی موجودہ شدت پسند انتظامیہ شام کی یکجہتی کو قائم نہیں رکھ سکے گی، فرقہ وارانہ اور لسانی عصبیت نے شام کو دیمک کی طرح چانٹنا شروع کردیا ہے، دمشق کے حل و عقد عصبیت کا شکار ہوکر اسرائیل کو موقع فراہم نہ کریں کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم پر مبنی ایجنڈا کو نافذ کرئے، ظلم پر کسی کو خاموش نہیں رہنا چاہیے اس کے منفی نتائج ہی سامنے آئے ہیں، دروز مسلمانوں سے جدا ہونے والی کمیونٹی ہے،دمشق انتظامیہ کو وسیع القلبی کا ثبوت دینا چاہئے اور جنگجوؤں کی خواہش کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل سے جبل الجولان کی آزادی کیلئے جہاد کا اعلان کریں۔
جمعہ, مارچ 6, 2026
رجحان ساز
- افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ، جواب مناسب وقت پر دیا جائیگا
- بنگلہ دیش: جمہوریت کی واپسی یا اقتدار کی نئی ترتیب؟ سیاسی استحکام جنوبی ایشیائی ملکوں کیلئے ناگزیر ہے
- امریکہ اور ایران درمیان جینوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اطمینان بخش تہران کو ڈکٹیشن قبول نہیں!
- فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر بشیر زیب کا آبائی گھر سمیت دو مکانات مسمار کردیئے
- اسرائیلی صدر کے دورہ آسٹریلیا کےخلاف احتجاجی مظاہرہ فورسز کا تشدد متعدد افراد زخمی 19 گرفتار
- تمام پابندیاں ہٹالی جائیں تو یورینیم کی کم افزودگی کو ممکن بنایا جائیگا، ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا
- ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرئے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا اعلان
- امریکہ-ایران مذاکرات جون 25ء کی سطح سے آگے بڑھے فریقین کامذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

