پاکستان کے شہر فیصل آباد کے تھانہ منصورہ آباد میں کرسٹل کیمیکل فیکٹری کے مالک اور مینیجر سمیت سات افراد کے خلاف دہشت گردی پھیلانے، قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، تھانہ منصور آباد میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی صبح پیش آنے والے اس واقعہ میں 20 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے، ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کرسٹل کیمیکل فیکٹری میں خطرناک کیمیکل اور آتش گیر مادہ ذخیرہ کیا گیا تھا، یہ خطرناک کیمیکل اور آتش گیرمادہ فیکٹری میں استعمال کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے ملحقہ آبادی کے لوگوں میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا، ایف آئی آر کے مطابق علاقے کے لوگوں نے متعدد بار اس کی شکایت کی کہ یہ خطرناک کیمیکلز و آتش گیر مادے سے بھرے کنٹینرز کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں جس پر محکمہ پولیس کی طرف سے فیکٹری مالک محمد قیصر چغتائی، فیکٹری منیجر بلال علی عمران اور ملازمین کو متعدد بار تنبیہہ کیا گیا لیکن فیکٹری مالک اور ملازمین نے پولیس کی ان ہدایات و تنبہہ کو نظرانداز کیے رکھا اور اپنا کام جاری رکھا، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ خطرناک کیمیکلز و آتش گیر مادہ سے بھرے کنٹینرز کے پھٹنے سے 20 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں اور فیکٹری مالک محمد قیصر چغتائی، فیکٹری منیجر بلال علی عمران اور پانچ دیگر ملازمین اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں، مرنے والوں میں 19 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ ایک شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی، ایف آئی آر پولیس سب انسپکٹر احتشام عباس مدعی ہیں۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 لگائی گئی ہے جوکہ قتل سے متعلق ہے اور دونوں دفعات میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ مقدمے میں اقدام قتل اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کی دفعات بھی عائد کی گئی ہیں۔
صوبہ پنجاب کے ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک شہر فیصل آباد میں ایک فیکٹری میں دھماکہ کے بعد کم از کم 20 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع جمعے کی صبح ملی جس میں بتایا گیا کہ فیصل آباد کے علاقے ملک پور کی ایک فیکٹری کا بوائلر پھٹا جس سے کئی عمارتوں اور قریبی گھروں کی چھتیں گِر گئیں، انھوں نے بتایا کہ اس دھماکے سے فیکٹری کے قریب واقع نو گھر متاثر ہوئے، متاثرین میں تین مزدور اور باقی رہائشی ہیں، ترجمان ریسکیو پنجاب کے مطابق منہدم عمارت سے کئی لوگوں کو زندہ ریسکیو کیا گیا تاہم شدید چوٹوں کی وجہ سے کچھ لوگ بعد میں دم توڑ گئے۔ ترجمان کے مطابق اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے، ریسکیو ترجمان فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ گیس لیکج کی وجہ سے سٹیمر بلاسٹ سے ہوا۔ یہ فیکٹری ملک پور، شہاب ٹاؤن میں واقع ہے جس کے قریب کبڈی سٹیڈیم گراؤنڈ موجود ہے، مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، مریم نواز نے کمشنر فیصل آباد سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کی ہے،
پیر, جنوری 19, 2026
رجحان ساز
- ایرانی معیشت بدحواسی کا شکار، عوام سڑکوں پر نکل آئے، ایک ڈالر ایک لاکھ 38 ہزار تومان کا ہوگیا
- یمن میں عرب امارات کی پراکسی فورسز پر سعودی فضائی حملے خلیج فارس میں نئی صف بندیاں شروع
- غزہ میں مزاحمتی تحریک کو غیرمسلح کرنے کیلئے آنیوالی غیر ملکی فوج فلسطینی کاز سے غداری کرئے گی
- پاکستان کے سرکاری حکام نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم سے بہنوں کو ملنے سے روک دیا !
- پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے کا اختیار نہیں! حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کا ردعمل
- ایران پر حملے کیلئے 20 سال تیاری کی، بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو شکست دی
- امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 کا کمزور ورژن دے گا مارکو روبیو نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کردی
- حزب اللہ کا چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان خطے کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق!

